انوارالعلوم (جلد 6) — Page 311
انوار العلوم جلد 4 ۳۱۱ هستی باری تعالی دلیل شہادت پر اعتراض اور اس کا جواب کیا جا سکتا ہے کہ کیا پتہ ہے کہ ان لوگوں نے فی الواقع ایسی شہادت دی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے انہیں مبعوث کیا ہے اور ان کے بعد لوگوں نے اپنے پاس سے بات بنا کر ان کی طرف منسوب نہیں کر دی ۔ اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی شہادت تو اتمر سے پہنچتی ہے اور دنیا کی کوئی شہادت تواتر سے نہیں پہنچتی کروڑوں آدمی نسلاً بعد نسل اور ہزاروں کتب ان کی شہادت کو پیش کرتی چلی آئی ہیں پس ان کی شہادت کے متعلق کسی قسم کا شعبہ پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔ پھر یہ کہ شہادت کسی خاص زمانہ سے مختص نہیں ہے ہر زمانہ میں ایسے شاہد گذرے ہیں اور اس وقت بھی ایک شخص گذرا ہے جس نے اس شہادت کو تازہ کیا ہے اور اپنی راستباز انہ زندگی کے متعلق اس نے آریوں ، ہندوؤں ، مسلمانوں مسیحیوں سب قوموں کو چیلنج دیا لیکن کوئی قوم بھی باوجود اس کے کہ سب قوموں کے لوگ اس کے ارد گرد بیتے تھے یہ نہ کہ سکی کہ اس کی زندگی في الواقع تقویٰ اور راستبازی کا نمونہ نہ تھی ۔ بلکہ اس کے خطرناک دشمنوں تک نے یہ شہادت دی کہ وہ اپنی راستبازی میں سارے زمانہ میں بے مثل تھا اور پیا تک اس کی صداقت اور راستبازی کے لوگ معترف تھے کہ مخالفین نے ان جھگڑوں میں جو اس کے خاندان کے ساتھ تھے تسلیم کر لیا کہ جو وہ کہہ دے ہم اسے مان لیں گے۔ ٹشخص حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود و مهدی محمود تھے۔ پس جبکہ ہر زمانہ میں اس قسم کے شاہد موجود ہیں تو اس شہادت میں کچھ بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ اب میں آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں ۔ یہ ان دلیلوں سے جنہیں میں اب تک آٹھویں دلیل بیان کر چکا ہوں اتا ہے اور اس میں سے ایک نیا اور ان کا شرع سلسلہ دلائل ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں اور پہلے سلسلہ دلائل میں یہ فرق ہے کہ پہلی دلیلوں میں تو ہستی باری کا ثبوت صرف عقلاً ملتا تھا اور عقل اپنے فیصلہ میں بعض دفعہ غلطی بھی کر جاتی ہے اس دلیل سے سلسلہ دلائل مشاہدات سے تعلق رکھتا ہے جن میں غلطی نا ممکن ہو جاتی ہے گو یہ ایک لمبا سلسلہ دلائل کا ہے مگر میں گنجائش کی قلت کی وجہ سے مختصر پیرا یہ میں ایک ہی دلیل کی صورت میں اس سارے سلسلہ پہ ہر روشنی ڈالتا ہوں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خدانے اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے ایک دو نہیں چار ہیں دس میں نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں دلیلیں رکھی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ہر صفت اس کی ہستی کا ثبوت ہے ہم کہتے ہیں کہ خدا رحیم ، کریم ، قدیر ہمیع، بصیر ہے۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انسان سے بالا ایک بہتی ہے جو رحیم ہے اور رحم کرتی ہے ۔ کریم ہے کرم کا سلوک کرتی ہے ۔ ہماری ضروریات