انوارالعلوم (جلد 6) — Page 312
انوار العلوم جلد 4 ۳۱۲ هستی باری تعالی کو پورا کرتی ہے دکھوں اور تکلیفوں کے وقت ہماری حفاظت کرتی ہے ۔ عام قانون کے ذریعہ سے بھی اور خاص اسباب پیدا کر کے بھی تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا ہے۔ مخالفین تو ہم سے خدا کی ہستی کی ایک دلیل پوچھتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اس کی صفات کی جلوہ گری پر غور کر کے دیکھو تو اس کی ہستی کے لاکھوں ہزاروں ثبوت موجود ہیں۔ اس او ہے اس الى دہر یہ کہتے ہیں کہ جس طرح خدا مو ہوم ہے اس کی صفات بھی موہوم میں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ کوئی علیم ہستی موجود ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ کوئی سی سیتی موجود ہے؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ ہستی لوگوں سے کلام کرتی ہے ؟ کیا ثبوت ہے کہ وہ قدیر ہے ؟ اعتراض کے جواب میں دو قسم کے امور پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ ایک تو وہ جو ساری دنیا کو نظر آتے ہیں او بہ ایک خاص دلائل ہیں جو ہر انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مثلاً عفو کی صفت اس کا اثر وہی انسان محسوس کر سکتا ہے جس پر اس کا ظہور ہو اور بخشنے کی حالت کو وہ خود ہی محسوس کرے گا ۔ مثلاً تم کوئی گناہ کرتے ہو خدا چونکہ ستار ہے اس کے نتیجہ اور سزا سے تمہیں بچا لیتا ہے اور اس کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ جنہیں انسانی عقل نہیں پیدا کر سکتی۔ اس لئے معلوم ہوا کہ خدا ہے ۔ ایسے امور انسان کے نفس کے اندر ہی پیدا ہو سکتے ہیں اور ان کو وہی سمجھ سکتا ہے ہاں دوسری قسم کے امور کو سب لوگ مشاہدہ کر سکتے ہیں اور میں انہیں کو لیتا ہوں کیونکہ جو بات اپنے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق ذکر مفید نہیں ہو سکتا ۔ اسے تو وہی سمجھ سکتا ہے جس سے وہ تعلق رکھے ۔ خدا کی صفت عزیز کا ثبوت میں اللہ تعالی کی بعض صفات کو بطور شمال اس وقت پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ اس دنیا کے اوپر ایک ہستی ہے جس کے ارادہ کے ماتحت سب دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کو لیتا ہوں اگر یہ صفت اپنا کام کرتی ہوئی ثابت ہو جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ خدا ہے ۔ عزیز کے معنی غالب کے ہیں اور اس صفت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کتب اللهُ لَاغْلِبَنَ أَنَا وَ رُسُلِى إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (المجادلہ (۲۲) میں نے یہ مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب ہوں گے ۔ ادھر تو اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ میرے دین کی تائید کے لئے جو لوگ کھڑے کئے جائیں گے وہ ہمیشہ غالب رہیں گے اور دوسری طرف اس کی یہ سنت ہے کہ بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کو