انوارالعلوم (جلد 6) — Page 310
انوار العلوم جلد 4 ٣١٠ هستی باری تعالی پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے خدا کی قسم ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور اس اعتراض کی بجائے اور بات سوچنے لگے ۔ کیسی تھی بات تھی جواس شخص نے پیش کی اور پلے بھی رسول کریم کی طرف انوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپ کو صادق گتے رہے تھے تو پھر میدم جھوٹ کے الزام کو کون سچا مان سکتا تھا۔ اسی طرح ہر قل نے جب ابو سفیان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ کو جھوٹ بولا ہے تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا اور کہا کہ آج تک کا لفظ نہیں نے اس لئے لگایا نے تاکہ شبہ پڑھ سکے کہ شاید آئندہ بولے ۔ اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا اور جب وہ جمع ہو گئے توفرمایا کیا اگر یں نہیں ہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو مان لو گے ؟ انہوں نے کہا ہاں مان لیں گے حالانکہ مکہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہو سکتی تھی۔ پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر ناممکن الوقوع ہو آپ کے منہ سے سن کر ماننے کے لئے تیار ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ کی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یہ ناممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکا دے سکیں ۔ اس طبقہ اور اس درجہ کے لوگ ہیں جو اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے خدا سے الہام پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے یہ یہ یلون لوگ لوگ دنیا کے سب سے بڑے مصلح گزرے ہیں اور اپنے اخلاق کی خوبی اور مضبوطی کی وجہ سے انہوں نے لاکھوں آدمیوں کے دلوں پر اس طرح قبضہ کیا ہے کہ وہ لوگ اپنی جانیں اور اپنے مال ان کی راہ میں قربان کرنے کو بہترین نعمت خیال کرتے تھے اور پھر دنیا کے ذہنی ارتقاء میں جو ان لوگوں نے یا ان کے اتباع نے حصہ لیا ہے اور کسی نے اس قدر حصہ نہیں لیا۔ پس ان لوگوں کی ایسی کھلی کھلی اور زبر دست شہادت کی موجودگی میں کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک زبردست ہستی ہے جو اس دنیا کی خالق اور اس کی مالک ہے۔ اگر ایسی زبردست شہادت کو رد کیا جائے تو اصول شہادت کا بالکل ستیا ناس ہو جاتا ہے اور کوئی علم بھی دنیا میں ثابت نہیں ہو سکتا اور عقل سلیم ہرگز تسلیم نہیں کرتی کہ معمولی معمولی شہادتوں کو تو قبول کیا جائے مگر اس قدر زبردست شہادتوں کو رد کر دیا جائے۔ بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف كان يدعم الوحي إلى رسول الله - بخاری کتاب التفسير سورة الملعب آيت تتبت يدا أبي لهب