انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 307

انوار العلوم جلد 4 ہستی باری تعالی طرح پھینکنے سے مڑ کر بد بو پیدا ہو جائے گی۔ یہ ٹھیک ہے اور اس لئے دبانا ضروری ہے ۔ مگر ہم کہتے ہیں ۔ اسے دبانے کے لئے بہت سے آدمی جمع ہو کر کیوں لے جاتے ہیں ؟ رسی اس کے پاؤں میں باندھو اور گھسیٹ کر لے جاؤ ۔ ایسا کیوں نہیں کیا جاتا اور مردے کو با احترام دفن کرنے میں کونسا فائدہ ہے ؟ بظاہر اس میں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ فطرت انسانی اس فعل کو پسند کرتی ہے اور مردے کی بے حرمتی اس پر شاق گزرتی ہے ۔ غرض بہت سی نیکیاں ملتی ہیں جنہیں سب نیکیاں سمجھتے ہیں اور ان کو عمل میں لاتے ہیں حتی کہ دہریے بھی ان پر عمل کرتے ہیں لیکن ان ان میں میں بظاہر کوئی مادی فائدہ نہیں ہو ہوتا تا صرف احساسات کا کا سوال ہوتا ہے ۔ وطن کی خاطر لڑائی میں مرنا بھی ایسے ہی اخلاق میں سے ہے۔ سب دنیا کے نزدیک سے دنیا یہ ایک قابل عزت بات سمجھی جاتی ہے ۔ مگر ہم کہتے ہیں کیوں لوگ اپنی عزت و آبرو کے لئے مرنا اچھا سمجھتے ہیں ؟ اور کیا کوئی ملک ہے جس میں اپنی عزت اپنی آبرو اپنے ملک کے لئے جان دینا اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ مگر اس فعل سے جان دینے والے کو کیا نفع ہو سکتا ہے ؟ جب اس نے جان دیدی تو اسے کیا فائدہ ؟ مگر کیا باوجود اس حقیقت کے ایسے مواقع پر جہاں موت یقینی ہوتی ہے لوگ ملک و وطن کے لئے جان نہیں دیتے ؟ حالانکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ہمارے اس فعل سے ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔ غرض ہر ملک ہر قوم میں یہ اور اسی قسم کی باتوں کو اچھا سمجھا جاتا ہے ۔ مگر ان کے ایسے فائدے نہیں ہیں جو کرنے والے کی ذات کو پہنچ سکیں ۔ اس لئے معلوم ہوا کہ یہ فطرتی نیکیاں ہیں اور نیکی کی طرف میلان خدا نے ہی فطرت میں رکھا ہے ۔ ساتویں دلیل۔ دلیل شهادت ساتویں دلیل اس بات کی کہ خدا ہے ۔ دلیل شہادت ہے اور دنیا میں سارے فیصلے شہادت پر ہی ہوتے ہیں۔ شائد ننانوے فیصدی فیصلے اس کے ذریعہ ہوتے ہوں گے نہ صرف مقدمات میں بلکہ تمام علوم میں ۔ دنیا کا فیصدی فیصلے اس کے ذریعہ ہوتے ہوں گے صرف رات میں امام علم میں رہنے کا ہر شخص جس قدر باتیں جانتا ہے اور جس قدر باتوں کو وہ صحیح مانتا ہے ان کے متعلق دریافت کر کے دیکھ لو عالم سے عالم آدمی بھی ان میں سے ننانوے فیصدی کو صرف شہادت کی بناء پر تسلیم کرتا ہے نہ کہ اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر اور مشاہدہ پر تمام علوم جو یقینی سمجھے جاتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہے علم طب ہو کہ علم ہیئت، علم کیمیا ہو کہ علم انجینرنگ تمام علوم کا بیشتر حصہ شہادت پر تسلیم کیا جاتا ہے بعض لوگوں نے تجارب کئے ہوتے ہیں دوسرے ان کی تحقیق پر اپنے علم کی بنیاد رکھ دیتے ہیں ۔