انوارالعلوم (جلد 6) — Page 308
انوار العلوم جلد 4 ۳۰۸ ہستی باری تعالی خود تجربہ کر کے نہیں دیکھتے۔ پس جب دنیا میں ہر بات اور ہر علم کا فیصلہ شہادت پر ہوتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہستی باری کے معاملہ میں یہ دلیل باطل سمجھی جائے ۔ ہم مانتے ہیں کہ شہادت فی الواقع شہادت ہونی چاہئے یونسی سنی سنائی بات نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اگر شہادت کے اصول کے مطابق کوئی شهادت مل جائے تو پھر اسے ماننا پڑے گا دلیل ہمیشہ شہادت ہوتی ہے نہ کہ عدم شهادت ۔ اگر ایک بڑی جماعت پیچھے اور راست باز لوگوں کی ایک امر کے متعلق شہادت دے کہ انہوں نے اسے دیکھا یا موجود پایا ہے تو جو لوگ اپنی لاعلمی ظاہر کریں ان کا قول ان گواہوں کے مقابلہ پر ہر گنز سنا نہیں جائے گا کیونکہ لا علمی شہادت نہیں ہوتی اور ان شاہدوں کی شہادت کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ۔ خدا کی ہستی کی شہادت دینے والوں کی اعلیٰ زندگی اب ہم اس معیار کے مطابق ہستی باری کے سوال پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے موجود ہونے کی شہادت ہزاروں لاکھوں لوگ دیتے ہیں اور وہ لوگ بھی ایسے ہیں کہ ان سے بہتر چال چلن والا کوئی شخص نظر نہیں آتا۔ قرآن کریم اس دلیل شہادت کو ان الفاظ میں پیش کرتا ہے ۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْراً مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَ تَعْقِلُونَ (یونس : ۱۷) یعنی اسے رسول تو اپنے مخالفوں سے کہ دے کہ میں نے تمہارے اندر عمر بسر کی ہے۔ پھر تم عقل نہیں کرتے اور میرے دعوی کو جھوٹا کہتے ہو۔ کیا اس لمبی عمر میں جوئیں نے تم میں بسر کی ہے تم نے میری صداقت مشاہدہ نہیں کی ؟ اگر تم نے یہ دیکھا ہے کہ میں کسی حالت میں بھی جھوٹ نہیں بولتا تو اب یہ بات جو میں کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے مبعوث کیا ہے تاکہ میں اس کی طرف تمہیں بلاؤں اس میں تم کیوں شک کرتے ہو۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ میں جو ہر خطرہ کو برداشت کر کے سچائی کو قائم رکھتا آیا ہوں اور جس کے چال چلن کی خوبی اور مضبوطی کا دوست دشمن معترف ہے یکدم اور ایک ہی رات میں اس قدر بگڑ گیا ہوں کہ اتنا بڑا جھوٹ میں نے بنالیا ہے کہ دنیا کے خالق نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے ۔ ۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے نبی کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت کے لوگ اس کی نسبت کتنے تھے یا يُضيعُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوا قَبْلَ هَذَا (هود : ۶۳) اسے صالح ہمیں تو تم سے اس اسے صالح ہیں تو تم سے پہلے بڑی بڑی امیدیں تھیں ۔ تم بہت اچھے تھے ۔ مگر اب تمہیں کیا ہو گیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ مجھ میں کوئی عیب تو پکڑو ۔ غرض جس قدر انبیاء دنیا میں