انوارالعلوم (جلد 6) — Page 302
انوار العلوم جلد 1 ۳۰۲ هستی باری تعالی تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَى قَدِيرُهِ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيْكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتِ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ، ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَتَيْنِ يَنْقَلِبُ إِلَيْكَ الْبَصَرُ حَاسِنَا وَهُوَ حَسِيرُه ( الملك : ۲ تا ۵ ) وہ خدا جس کے ہاتھ میں سب بادشاہت ہے۔ بہت برکنا برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت و زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے ۔ وہ جس نے سات آسمان پیدا کئے جو ایک دوسرے کے مطابق کام کر رہے ہیں ۔ تو خدا کی پیدا کردہ چیزوں میں کوئی رخنہ نہیں دیکھے گا۔ اس امر کو دیکھا اور پھر پنی نظرکو پھر اٹھا کر دیکھ کیا تجھے کوئی بی نقص نظر آتا ہے ۔ دینی صحیح حاجت ہو اور اس کے پورا کرنے کا سامان نہ ہو ، پھر دوبارہ اپنی نظروں کو چکر دے مگر وہ پھر بھی نا کام اور تھک کر واپس آجائیں گی یعنی کل کائنات عالم عالم میں ایک ایسا نظام معلوم ہوتا ہے جس میں کوئی بھی نقص نہیں۔ ایک لمبا سلسلہ قوانین کا جاری ہے جو کہیں بھی ٹکراتا نہیں ۔ کیا یہ آپ ہی آپ ہو سکتا ہے؟ نہیں بلکہ یہ نظام دلیل ہے کہ ایک ایسی بستی موجود ہے جو بالا رادہ خالق ہے اور مالک ہے اور غالب ہے اور بخشنے والی ہے ہے۔ 6 ** اس دلیل کے متعلق بعض اعتراض کئے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں اول بعض پہلا اعتراض چیزوں کے متعلق تو نظام پایا جاتا ہے مگر بس میں نہیں ملا یہ درخت جو جنگلوں میں اُگے ہوئے ہیں یا یہ جانور جو چلتے پھرتے ہیں اور یہ پرندے جو اڑتے پھرتے ہیں یہ انسان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ان میں سے دو چار کھانے کے قابل ہیں لیکن باقی لغو ہیں۔ سانپ بچھو اور ایسے ہی موذی جانور۔ زہر یلے درخت اور پودے کیا کرتے ہیں ؟ ان کا انسان کے فائدہ کے لئے کوئی کام نہیں ہے ۔ اس اعتراض کا مفصل جواب تو صفات باری کے بیان میں آئے گا۔ یہاں مجمل طور جواب پر بتاتا ہوں کہ ان جانوروں کی پیدائش میں بے انتظامی نہیں بلکہ یہ انسان کیلئے خزانے ہیں جو ضرورت کے وقت کام آتے ہیں اور یہ جانور وغیرہ جن کو لغو کہا جاتا ہے ضرورت پر بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً سانپ ہی ہے ۔ اس کا ز ہر دوائیوں میں کام آتا ہے ۔ اس طرح بچھو سے دوائیاں بنتی ہیں اور کئی ایسی چیزیں ہیں جن کو پہلے لغو اور فضول سمجھا جاتا تھا مگر اب ان کو بہت مفید سمجھا جاتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ اس قسم کی چیزیں انسان کے لئے خزانے ہیں جن میں سے کوئی ہوا میں رکھ دیا گیا ہے