انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 301

انوار العلوم جلد 4 ٣٠١ هستی باری تعالی پس یہ کہنا کہ خدا کے ماننے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے بالکل غلط اور باطل ہے پانچویں دلیل - دلیل انتظامی ان میں اب میں پانچویں دلیل لیتا ہوں ۔ پانچویں دلیل جس کو دلیل انتظامی کہنا چاہئے اور جو چوتھی دلیل کی ہی در حقیقت ایک ترقی یافتہ صورت ہے اور اس میں دنیا کے وجود سے کسی خالق پر استدلال نہیں کیا جا تا بلکہ دنیا کے انتظام سے خالق پر استدلال کیا جاتا ہے۔ دنیا کا انتظام ہستی باری تعالیٰ پر ایک بہت زبردست دیل ہے۔ بیشک کوئی شخص فرض کرے کہ زمین اتفاقا پیدا ہوگئی۔ لیکن اس کا ئنات میں اکیلا ہی کرہ نہیں اس کے علاوہ اور بھی کرے ہیں اور وہ سب الگ کام نہیں کر رہے بلکہ ایک قانون کے ماتحت اور تقسیم اور بھی وہ الگ کام بکہ ایک اور عمل کے ماتحت کام کر رہے ہیں ۔ ایک چیز کے بغیر دوسری مکمل نہیں اور ایک کے کام میں دوسری دخل نہیں دیتی ۔ یہ بھی فرض کر لو کہ انسان آپ ہی پیدا ہو گیا ۔ مگر اس امر کو کس طرح فرض کر لیا جائے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی تمام عالم کو بھی اسی مناسبت پر پیدا کیا گیا ہے کہ وہ انسان کی ضروریات کو خواہ وہ کس قدر ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوں پورا کر رہا ہے۔ پھر جزئیات کو لو ۔ انسان کو پیدا کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی انسان کے ہاتھ ایسے ہیں جو لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انسان کو ایسا دماغ ملا تھا جو علم کو محفوظ کرنے کا خواہشمند تھا۔ اسے ہاتھ بھی ایسے دیئے گئے جو لکھنے کے لئے بہترین آلہ ہیں۔ اگر اتفاق سے انسان پیدا ہو گیا تھا تو چاہئے تھا کہ اسے دیتے دماغ تو وہ ملتا جو علم کے محفوظ رکھنے کا خواہش مند ہوتا۔ مگر ہاتھ ملا ریچھ کے سے ہوتے۔ دمانی کر ترقی کے بالکل مناسب حال جسمانی بناوٹ اسی طرح بدلتی گئی ہے کہ اس کا طبعی بناوٹ کی ضرورت یا عدم ضرورت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں یہ محض اتفاق کیونکر کہلا سکتا ہے ؟ اسی طرح مثلاً انسان کو آنکھیں ملی ہیں تو دوسری طرف دیکھو کروڑروں کروڑ میں پر سورج بھی پیدا کیا گیا ہے جس کی روشنی میں یہ آنکھوں سے کام لے ۔ انسان کی پیدائش کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اسے اگر بیماری اور شفاء یماری کا مور د بنایا گیا ہے تو ساتھ ہی سب بیماریوں کا علاج بھی مہیا کیا گیا ہے ۔ آخر تمام عالم میں ایک نظام اور چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے پورا کرنے کا سامان جو کروڑوں اشیاء کی پیدائش اور لاکھوں حالتوں میں واقعات کے مناسب بدل جانے والے قانون کو چاہتا تھا اتفاقاً کسی طرح ہو سکتا ہے۔ انسانی دماغ اس کو یاد کس طرح کر سکتا ہے کہ اس قدر وسیع نظام آپ ہی آپ اور اتفاقاً ہو گیا۔ یہ نظام بغیر کسی بالا رادہ مستی اور وہ بھی بغیر کسی عالم الغیب اور قادر ہستی کے کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا تھا ۔ قرآن کریم نے اس دلیل کو بھی پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔