انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 303

انوار العلوم جلد 4 ۳۰۳ هستی باری تعالی کوئی سمندر میں کوئی زمین میں تاکہ انسان علمی ترقیاں کر کے انہیں حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ جو کچھ ان کے متعلق دریافت ہو چکا ہے وہ لاکھوں فوائد پر دلالت کرتا ہے جو حال ابھی نہیں کھلا اسے ہم معلوم پر قیاس کر سکتے ہیں ۔ دوسرا اعتراض دور اعتراض کیا جاتاہے کہ بارہ ہو یا خشکی اور ی میں ہی پیا ہوتی ہیں جو یونسی تباہ ہو جاتی ہیں اور ہزار ہا جانور خشکی ونری میں ایسے ہیں جو تباہ اور ہا پیدا ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ ان کا کوئی فائدہ نہیں یونی ضائع ہو جاتے ہیں ہیں جو پیداہوتے ہیں اور مر ہیں۔ انکا ہو اگر کوئی خالق بالا رادہ ہوتا تو ان اشیاء کو یونی ضائع ہونے دیتا ؟ جواب ماما کہتے ہیںکہ یہ نیوی انسانی کی اور دین اور جانی اور رومانی تری کے لئے یہ چیزیں انسان علمی اور ذہنی اورجمانی پیدا گئی ہیں ان کا اس ان کا اس طرح پیدا ہونا اور تباہ ہونا بھی تو انسان کی توجہ کو پھیرتا ہے پس فائدہ تو ہوا ۔ گو براہ راست فائدہ نہ اٹھا یا گیا مگر یہ فائدہ اُٹھانا تو انسان کا کام ہے۔ اگر وہ ان سے فائدہ نہیں اُٹھاتا تو یہ اس کا قصور ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح ان چیزوں کی پیدائش میں حکمت ہے خدا معلوم ان کی اس طرح ہلاکت میں کیا گیا حکمتیں ہیں جن تک ابھی انسان کا دماغ نہیں پہنچا ۔ آخر ہم دیکھتے ہیں کہ کئی چیزیں جلا کر اور راکھ کر کے زیادہ مفید ہوتی ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض چیزیں انسان کے لئے ضائع ہو جاتی ہوں مگر خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ کیونکر بولے جاسکتے ہیں۔ مرنے والے جانور یا سر جانے والی بوٹیاں انسان کے لئے تو ضائع ہوگئیں۔ کیا خدا کے لئے بھی ضائع ہو گئیں ۔ کیا وہ بھی ان سے فائدہ اُٹھاتا تھا کہ اس کے لئے ضائع ہوئیں ۔ دوسر جب وہ ان اشیاء کا خالق ہے تو وہ جس حال میں ہوں وہ اس کے قبضہ میں ہیں وہ اس کے لئے ضائع جب وہ ان اشیاء کا خالق ہو کسی طرح سکتی ہیں ؟ خدا کے ہاتھ سے نکل کر کوئی چیز کہاں جا سکتی ہے ۔ ان چیزوں کی ہلاکت کی مثال تو یہ ہے کہ ایک مکان کی اینٹیں اکھیڑ لی جائیں ۔ وہ مکان بیشک گر جائے گا لیکن اینٹیں گھر میں ہی رہیں گی جو دوسرے مکان میں استعمال ہو جائیں گی ۔ اسی طرح پیدا کرنا اور مارنا در حقیقت استعمال کے تغیر کا نام ہے ۔ خدا تعالیٰ کے لئے مخلوق کا مرنا اور پیدا ہونا نہ حقیقتا مرنا ہے نہ پیدا ہونا ، ہے ایک اور بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ انسان جو تیسرا اعتراض اور جواب پیدا ہوا سے اس قسم کی انگلیاں اس لئے دی گئیں کہ دیکھ سکے یا اور جو اعضاء اسے دیئے گئے ہیں وہ اس لئے دیئے گئے کہ دوسری چیزوں سے فائدہ اُٹھا سکے بلکہ بات یہ ہے کہ انسان اس لئے ایسا پیدا ہوا کہ ارتقاء کا دوسرا قدم ایسے ہی انسان پیدا کرنے کی طرف اُٹھ