انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 280

انوار العلوم جلد 4 ۲۸۰ هستی باری تعالی موجود ہے اور وہ یقین کرتی ہیں کہ ان کے پاس جو قانون ہے وہ خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے پس یہ شهادت جو ان اقوام کی ہے جو الہام یا عدم الہام کی حقیقت سے ناواقف ہے بتاتا ہے کہ یہ خیال کسی تدریجی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ الہام کے ذریعہ سے قدیم زمانہ سے چلا آتا ۔ آتا ہے کے طور دیم زمانہ سے چلا آتا ہے مثال کے طور پر ہم دیدوں کو لیتے ہیں۔ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین اور شریعیت کے عالم بالا سے نازل ہونے کا خیال بہت پرانا ہے ۔ آسٹریلیا کے وحشی قبائل دنیا کی قدیم ترین حالت کے نمائندے ہیں ان سے جب پوچھا جائے کہ وہ کیوں بعض رسوم کی پابندی کرتے ہیں تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ نوٹیڈ ٹر نے ان کو ایسا ہی حکم دیا ہے یعنی خدا نے۔ امریکہ کے پرانے قبائل میں بھی یہ خیال موجود ہے کہ ان کے قوانین الہام کے ذریعہ سے بنے ہیں۔ یہ ی شادمیں بتاتی ہی کہ تدریجی ترقی سے ہ خیالات پیدا نہیں ہوئے بلکہ کی ایک شخص کی معرفت جو اپنے آپ کو علم قرار دیتا تھا مختلف قبائل میں پھیلے۔ لوگ ان اشخاص کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں، فریبی کہ سکتے ہیں مگر یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ خیالات تدریجی ترقی کا نتیجہ تھے ورنہ یہ روایات قدیم وحشی قبائل میں نہ پائی جاتیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آثار قدیمہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سی قومیں جن میں اب ہے کہ سے یہ معلوم ہوتی کہ بہت مشرکانہ خیالات میں ابتداء میں ان میں ایک خدا کی پرستش تھی چنانچہ مینہ ایک محقق ہے اس نے چین کے متعلق تحقیقات کی ہے کہ گو وہاں ہر چیز کا الگ خدا مانتے ہیں آگ کا خدا، چولہے کا خدا ، توے کا خدا غرضیکہ ہر چیز کا خدا الگ الگ ہے گویا ہندوستان سے بھی بڑھ کر شرک ہے کہ جہاں صرف ۳۳ کروڑ دیوتا سمجھا جاتا ہے لیکن پرانے زمانہ میں وہاں ایک ہی خدا کی پرستش کی جاتی تھی ۔ اسی طرح بابل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ بابل وہ شہر ہے جسے ہمارے ملک کے بچے بھی جانتے ہیں اور ہاروت ماروت کے فقے کی وجہ سے خوب مشہور ہے اس شہر کی تاریخ نہایت قدیم ہے اس سے بھی بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں پرانے زمانہ میں ایک خدا کا خیال موجود تھا ۔ ان تیسرا جواب تیرا جواب یہ ہےکہ قدیم قوم کے تعلق یہ نا ممکن ہے یہ کہنا کہ مکان ہے ان میں ایک خدا کا اب خیال بعد میں پیدا ہو گیا ہو عقلاً غلط ہے کیونکہ یہ ایک مانا ہوا قاعدہ ہے کہ جو خیال کسی قوم میں بعد میں پیدا ہو اس کی عظمت زیادہ ہوتی ہے اور جو دیوتا بعد میں مانا