انوارالعلوم (جلد 6) — Page 279
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۹ ہستی باری تعالی ان کا ارشاد ARUNTA) نامی ایک قبیلہ ہے ۔ وہ ایک ایسے خدا کا قائل ہے جو آسمان پر رہتا ہے اسے وہ الٹجیرا ALTJIRA) کہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ چونکہ علیم ہے اس لئے سزا نہیں دیتا اور اس لئے اس کی عبادت کی ضرورت نہیں۔ افریقہ کا ایک وحشی قبیلہ جسے زولو ( ZULU ) گنتے ہیں ان میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ایک غیر مرئی خدا ہے جو سب دنیا کا باپ ہے ۔ اس کا نام انکو کولو ( UNKULUNKIVLU) بتاتے ہیں ۔ ہندوؤں میں خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتوں کے متعلق خیال پایا جاتا ہے۔ چنانچہ درونا کے متعلق وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عالم الغیب اور غیر محدود طاقتوں والا ہے چنانچہ اس کے متعلق ہندوؤں کا پرانا خیال ہے کہ " اگر کوئی آدمی کھڑا ہو یا چلے یا پوشیدہ ہو جائے۔ اگر وہ لیٹ جائے یا کھڑا ہو جائے یا جو دو آدمی اکٹھے بیٹھ کر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں بادشاہ دردنا " اسے جانتا ہے وہ وہاں بطور ثالث موجود ہے ۔ یہ زمین بھی درونا کی ہے اور آسمان اپنے وسیع فضا سمیت بھی اسی کا ہے۔ وہ شخص آسمان سے بھی بھاگ کر نکل جائے وہ بھی بادشاہ رونا کی حکومت سے باہر نہیں جاسکتا " سے اسی طرح آسٹریا کے قدیم وحشی باشندے نورینڈیٹرا NURRENDIRE ) کو شریعیت دینے والا N) خدا سمجھتے ہیں۔ دو ہو ایک پرانا وحشی قبیلہ نوری (NURELLI) کے نام سے ایک زبر دست خدا کی پرستش کرتا ہے۔ افریقہ کا مشہور مغربی بنتو قبیلہ نزامبی ( NZAMBI ) تمام دنیا کا پیدا کرنے والا اور بنی نوع انسان کا باپ قرار دیا جاتا ہے ۔ پس اس قدر قدیمی اور وحشی قبائل کے اندر ایک زبردست غیر مرئی خدا کا خیال پایا جانا بتاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خدا کا خیال نہیں پیدا ہوا بلکہ الہامی طور پر آیا ہے ۔ بعض لوگ اوپر کے بیان پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تو مانا کہ اہل یورپ کا اعتراض ایک غیر منی قادر مطلق خدا کا خیال پرانی اور قدیمی اقوام مں پایا جاتا ہے مگر یہ کس طرح معلوم ہو کہ یہ خیال بھی ان قوموں میں پرانا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو خود وحشی قبائل میں الہام کا خیال موجود ہے پرانے سے پرانے قبائل کو لیا جائے وحشی سے وحشی قبائل کی روایات پر غور کیا جائے تو ان میں الہام کا خیال