انوارالعلوم (جلد 6) — Page 281
انوار العلوم جلد 4 ۲۸۱ ہستی باری تعالی جائے اس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے اور یہ بات تمام قدیم اقوام کے حالات سے معلوم ہوتی ہے کہ ان میں ایک خدا کا خیال تو موجود ہے لیکن پرستش چھوٹے دیوتاؤں کی زیادہ ہے اگر یہ خیال درس ہے کہ تدریج سے ایک خدا کا خیال پیدا ہوا ہے تو چاہئے تھا کہ تمام اقوام میں ایک خدا کی پرستش زیادہ ہوتی اور چھوٹے دیوتا اگر باقی بھی رہتے تو محض روایت کے طور پر حقیقتا لوگوں کا ان سے لگاؤ نہ ہوتا مگر واقعہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ چھوٹے دیوتاؤں کی پرستش ہی قدیم قبائل کرتے ہیں اور خدا کی پرستش شاذ و نادر ہی کسی قبیلہ میں پائی جاتی ہے پس یہ صورت حالات اس تدریجی ترقی والے مقولہ کو باطل کر دیتی ہے۔ پھر ایک اور ذریعہ بھی اس سوال کو حل کرنے کا ہے اور وہ موجودہ زمانے کے تغیرات سے استنباط ہے۔ اس عقیدہ کی بنیاد کہ خدا کے خیال نے تدریجی ترقی کی ہے اصل میں صرف اس خیال پر مبنی ہے کہ تمام چیزوں میں تدریجی ترقی یا ارتقاء پایا جاتا ہے اور اس سے انسانی دماغ مستثنی نہیں۔ اب ہم اس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت کو دیکھتے ہیں۔ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسلام خالص توحید پر مبنی تھا اس کے ابتداء میں شرک کا ایک شمہ بھی اس کی تعلیم میں شامل نہ تھا مگر آہستہ آہستہ اب اسلام کی کیا حالت پہنچ گئی ہے۔ کیا اب مسلمانوں میں قبر پرست، درخت پرست، جن پرست ، بھوت پرست ، ستارہ پرست لوگ نہیں پائے جاتے؟ آخر وه مسلمان کہلانے والے لوگ ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ سید عبدالقادر جیلانی کے پاس ایک عورت آئی اور آکر کہا میرے بچے کے لئے دعا کرو کہ صحت یاب ہو جائے۔ انہوں نے کہا دعا کریں گے چلی گئی لیکن وہ پھر آئی اور کہا میرالہ کا تو مر گیا۔ اس پر انہوں نے عزرائیل کو بلایا۔ وہ وہ آئے آ اور وہ پی تو کہا میں نے جو کہا تھا اس لڑکے کی جان نہیں نکالنی - پھر کیوں نکالی ؟ انہوں نے کہا مجھے ایسا ہی حکم تھا میں کیا کرتا ۔ اس پر اسے پکڑنے لگے اور وہ بھاگا ۔ عزرائیل آگے آگے اور یہ پیچھے پیچھے۔ میں کیا؟ گو یہ بعد میں اُڑے مگر عبد القادر تھے اس کے قریب پہنچ ہی گئے ۔ وہ آسمان میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ انہوں نے پکڑ کر اس کی زنبیل چھین لی اور اس لڑکے کی روح ہی نہیں بلکہ اس دن کی ساری رو میں جو اس نے قبض کی تھیں چھوڑ دیں۔ وہ خدا کے پاس گیا اور جا کر رونے لگا کہ مجھ سے یہ جائیں نکالنے کا کام نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سید عبد القادر نے مجھے ایک روح کے آزاد کرنے کو کہا تھا۔ میں نے آزاد نہ کی تو انہوں نے چھین کر سب روحیں ہی آزاد کر دیں ۔ خدا نے یہ سنتے ہی کہا چپ چپ وہ کہیں یہ باتیں سن نہ لے۔ اگر وہ اگی پھیلی ساری رو میں چھوڑ دے تو پھر ہم کیا کریں گے۔ گل