انوارالعلوم (جلد 6) — Page 278
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۸ بستی باری تعالی عیسائیت میں بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلے تاریکی تھی پھر دنیا بنی اور اسلام میں بھی یہی ہے ۔ یہ ہزاروں سال بعد کی تحقیقاتیں بھی یہی ثابت کرتی ہیں اور یہی باتیں ہیں جو سائنس کہتی ہے کہ پہلے بہت باریک ذرات تھے جو بغیر کسی سبب اور ذریعہ کے اکٹھے ہوئے اور بادل بنے ان میں ایک جگہ ٹھوس ہو گئی اس لئے کہ وہاں زیادہ مادہ جمع ہو گیا۔ اس جگہ نے دوسرے ذروں کو کھینچنا شروع روع کیا اور کرہ بڑھنے لگا اور اس میں گولائی آنے لگی ۔ اس طرح بہت بڑا کرہ بنا۔ پھر اسکے ٹکڑے ہو گئے۔ کوئی سورج بن گیا کوئی چاند ، کوئی ستارے ۔ کے افریقہ کے قدیمی باشندوں کے خیال پھر افریقہ کی طرف آئیے وہاں کے پرانے اور افریقہ کےدی کے خیال یو اے ای اونیک قدیمی باشندوں کے دماغ اتنے ادنی درجہ کے ہیں کہ اگر انہیں پڑھایا جائے تو بڑھاپے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ ان کے دماغ استقدر ادنی ہوتے ہیں کہ سیکھی ہوئی باتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔ ان میں بھی ایک دراء الوری ہستی کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔ چنانچہ ان کے ایک قبیلہ کا خیال ہے کہ ایک وراء الوری ہستی ہے جو سب کی خالق ہے اور اسے وہ نینگمو ( NYONGMO) کہتے ہیں۔ بابلیوں میں خدا کا عقیدہ پر بالوں میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے چنانچہ ایل کے ایک نہایت ہی پرانے بادشاہ کی ایک دُعا نکلی ہے جو یہ ہے :- ہے کہ اس کہ اسے دائمی بادشاہ تمام مخلوق کے مالک تو میرا خالق ہے ۔ اسے بادشاہ تیرے رحم کے مطابق - اے آقا جو تو سب پر رحم کرنے والا ہے تیری وسیع باد شاہت رحم کرنے والی ہو۔ اپنی الوہیت کی عبادت کی محبت میرے میرے دل میں گاڑ گاڑ دیے دے اور ۔ اور جو کچھ جو کچھ تجھے تجھے اچھا اچھا علم معلوم دیا دیتا ہے ہے وہ وہ مجھے دے۔ کیونکہ تو ہی ہے جس نے میری زندگی کو اس رنگ میں ڈھالا ہے ۔ نے میں ڈھالا ۔ کتنا اعلیٰ اور نبیوں والا خیال ہے جو اس دعا میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے میں کوئی چیز گیا مانگوں اور وہ میرے لئے مضر ہو۔ اس لئے اسے خدا جو کچھ تجھے میرے لئے اچھا معلوم ہوتا ہے وہ دے یہ اس قوم کی دُعا ہے جسے بت پرست کہا جاتا ہے ۔ دیگر اقوام کے خیال اسی طرح کینیڈا والے قدیمی باشندے ایک خدا کو مانتے ہیں۔ پھر آسٹریلیا کا علاقہ جو چند صدیوں سے ہی دریا دریافت ہوا ہے اور جہاں کے لوگ دنیا سے بالکل علیحدہ تھے اور اس قدر وحشی اور خونخوار تھے کہ ان کا قریباً خاتمہ کر دیا گیا۔