انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 277

انوار العلوم جلد 4 هستی باری تعالی مختلف حالتوں سے ترقی کرتا ہوا بنا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان بننے کی صورت میں اس نے چاند ، سورج ، ستاروں اور شیروں، بھیڑیوں اور سانپوں کو اچانک نہیں دیکھا۔ بلکہ وہ اس اور اور نہیںدیکھا بلکہ دیا سے پہلی حالت میں بھی ان چیزوں کو دیکھتا آیا ہے اور بعض کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے اور بعض کو قطعاً نظر اندازہ کرتا آیا ہے پس اگر جبکہ انسان بندریا اس سے بڑھ کر کسی اور جانور کی صورت میں سانپ سے خوب آشنا تھا بلکہ اس کا مقابلہ کیا کرتا تھا تو کیونکر ممکن ہے کہ جب وہ اس حالت سے ترقی کر جائے تو اسے پوجنے لگ جائے۔ یہ چیز نئی نہ تھی بلکہ ایسی چیز تھی جس سے وہ نسلاً بعد نسل واقف چلا آیا تھا پس ارتقاء کا مسئلہ بھی اس خیال کو رد کر رہا ہے ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ خوف و حیرت سے خدا کا خیال پیدا ہوا تو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے چاند اور سورج کی پرستش شروع ہوتی۔ کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو سب کو اور سب سے پہلے نظر آتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی پرستش ستارہ پرستی سے پہلے کی ہے ۔ حالانکہ سورج ، چاند وغیرہ کو ہر شخص شروع سے ہی دیکھتا چلا آیا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ پہلے دوسری چیزوں کی عبادت شروع ہوئی بعد میں ایک وراء الوڑی ہستی کا خیال پیدا ہوا ہے۔ خود تاریخ اس کو رد کر رہی ہے اور ان لوگوں کا استدلال تاریخ سے درست نہیں ہے ۔ پرانی سے پرانی اقوام میں ہمیں ایک خدا کے خیال کا پتہ لگتا ہے ۔ دنیا کی سب سے پرانی قوم کا خیال خدا کے متعلق دنیا میں پرانی اقوام جو اب تک محفوظ چلی آتی ہیں ان میں سے سب سے پرانی میکسیکو کی قوم ہے۔ یہ قوم بہت پرانی سمجھی جاتی ہے اور نہایت قدیم خیالات اس میں محفوظ پائے جاتے ہیں۔ جب ہم اس قوم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں خدا تعالٰی کے متعلق کیا خیال ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گو یہ ایک نہایت ہی پرانی قوم ہے مگر اس میں ایک خدا کا خیال موجود ہے ۔ وہ کہتے ہیں ایک خدا ہے جس کا نام ادونا و نونا AWONA WILLONA) ہے جو سب کا خالق ہے اور سب پر محیط ہے اور سب باپوں کا باپ ہے ۔ ابتداء میں جب کچھ نہ تھا ولونا نے خیال کیا اور اس کے خیال کرنے کے بعد اس خیال سے نمو کی طاقت پیدا ہوئی اور وہ طاقت بڑھتے بڑھتے وسیع فضا کی صورت میں تبدیل ہو گئی اور اس سے خدا کی روشنی جلوہ گر ہوئی اور فضا سکڑنے لگی جس سے یہ چاند اور سورج اور ستارے بنے ۔ یہ میکسیکو کے باشندوں کا نہایت ہی؟ ت ہی پرانا خیال ہے۔ اب خدا تعالیٰ کے متعلق جو تازہ سے تازہ خیالات ہیں ان کو ان سے ملا کر دیکھو وہ بھی ان کے مشابہ ہیں ۔