انوارالعلوم (جلد 6) — Page 276
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۶ هستی باری تعالی بالکل ابتدائی زمانہ میں بھی اس رنگ میں پیش کیا جا سکتا تھا کہ انسان محسوس کرے کہ خدا تعالیٰ کا وجود انی زمانی یا انسانوں کے کا ایک وجود دوسری اشیاء سے جو مخلوق ہیں بالکل الگ تھلگ ہے پس ہمیں اور قسم کے جوابوں کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک اس اعتراض کا حقیقی جواب دینے سے پہلے ہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیا ہے ؟ اگر ہم اس اعتراض کی حقیقت پر غور کریں تو پہلے اس کے مندرجہ ذیل اجزاء علوم ہوتے ہیں ۔ ا۔ خدا تعالیٰ کا خیال ڈر اور حیرت سے پیدا ہوا ہے۔ ۲- اس میں تدریجی ترقی ہوئی ہے ۔ اب اگر یہ دونوں باتیں صحیح ہیں تو خدا تعالیٰ کے متعلق جو خیال بنی نوع انسان میں پیدا ہوا ہے اس سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ سب سے پہلے جن چیزوں کی عبادت شروع ہوئی ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن سے سب سے پہلے بنی نوع انسان کو خوف پیدا ہو سکتا تھا ۔ اب اگر ذرا بھی تدبر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے انسان کو خوف درندوں سے ہو سکتا تھا کیونکہ جس وقت انسان کے پاس حفاظت کا پورا سامان نہ تھا اور آبادیوں کا دستور نہ شروع ہوا تھا سب سے زیادہ خطرہ درندوں سے ہی ہو سکتا تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ درندوں کی پرشکش کیٹروں کی پرستش سے بہت کم ہے۔ زیادہ تر سانپ کے پجاری ملتے ہیں۔ شیروں اور بھیڑیوں کی پوجا سانپ سے بہت کم اور کی ہوتی ہے حالانکہ سانپ چھپ کر حملہ کرتا ہے اور شیر ظاہر میں اور شیر کی آواز ہے اور سانپ کی نہیں ۔ اور شیر کا جسم بڑا ہے اور سانپ کا نہیں ۔ اور بھیڑیے کا حال بھی شیر کی طرح کا ہے۔ پس اگر تدریجی ترقی ہوتی تو سب سے پہلے شیر اور بھیڑیے اور ریچھ وغیرہ کی پرستش ہوتی مگر ان کی پرستش اس کثرت سے اور اس قدر پرانی نہیں ہے جس قدر کہ سانپ کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ خدا کے خیال کے تدریجاً پیدا ہونے کا خیال ہی غلط ہے ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ اعتراض تب ہی پڑ سکتا تھا جبکہ تسلیم کیا جائے کہ انسان اچانک دُنیا میں پیدا ہو گیا تھا اور اس وجہ سے اسے بعض چیزوں کو دیکھ کر حیرت اور خوف - پیدا ہوا مگر یہ عقیدہ رکھ کر تو فوراً ایک بالا رادہ ہستی کو تسلیم کرنا ہوگا جس نے ارادہ کیا کہ انسان پیدا ہو اور وہ پیدا ہو گیا اور خود یہ عقیدہ ہی خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کر دے گا۔ پس خدا تعالیٰ کے انکار کے ساتھ اس امر کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کی پیدائش بتدریج اور مختلف تغیرات سے ہوئی ہے اور اس قسم کے معترضین کا عقیدہ بھی یہی ہے ۔ اب اگر یہ بات درست ہے کہ انسان بتدریج