انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 275

انوار العلوم جلد 4 ۲۷۵ ہستی باری تعالی قدم یہ تھا کہ ایک واحد ہستی جو سب پر فائق تھی تجویز ہوئی پس خدا تعالیٰ کا خیال بندے کی مخلوق تھا کہ واحد جس پر فاق تھی تجویزیونی خدا کا کی ہے نہ کہ کوئی بالا ہستی بندے کی خالق ۔ چنانچہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سب سے پہلا علم جو دنیا نہ کیا چنانچہ لوگ کرتے ہیں کہ سب سے لاعلم میں رائج ہوا ہے وہ علم ہیئت تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ سورج ، چاند ، ستارے سب سے سے ڈر کر زیادہ انسانی عقل کو حیران کرنے والے تھے اس لئے سب سے پہلے انہی کو خدا قرار دیا گیا اور ان کی چالوں پر غور شروع ہوا تاکہ معلوم ہو سکے کہ خدا کا منشاء کیا ہے اور اس سے علم ہیئت کی ترقی ہوئی۔ علم اور فکر کی ترقی سے متاثر ہو کر جب لوگوں نے اس خیال سے تسلی نہ پائی تو پنڈتوں نے ان چیزوں کو بالا ہستیوں کے مظاہر قرار دے دیا پس خیالات کے اس ارتقاء سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا خیال انسانی دماغ کی ایجاد ہے نہ کہ کسی حقیقت پر مبنی یا کسی الہام کا نتیجہ ہے۔ اگر فی الواقع خدا ہوتا اور الہام سے دنیا کو اس خیال کی طرف توجہ پیدا ہوتی تو شروع سے ہی خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت عمل اور صحیح عقیدہ دنیا میں موجود ہونا چاہئے تھا۔ یہ اعتراض واقع میں قابل غور ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے ۔ جن اقوام نے الہام کی تعریف کو موجودہ زمانہ کے اعتراضات ڈر کر بدل دیا ہے انہوں نے تو اس اعتراض کا جواب نہایت آسانی سے دے دیا ہے اور وہ یہ کہ جس خیال کو تم نامکمل کہتے ہو اور جس تصویر کو تم ناقص کہتے ہو وہ بھی الہام کے ذریعہ سے تھی اور چونکہ دنیا کی ذہنی ترقی ابتداء میں کامل نہ تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کو تمثیلی رنگ میں بنی نوع انسان میں ظاہر کیا تھا اور چونکہ اصل چیز جس کی قدر کی جا سکتی ہے وہ تعلق ہے پس جو شخص بھی نیک نیتی سے سانپ یا بچھو یا ستاروں کو خدا سمجھ کر پوجتا ہے وہ در حقیقت خدا کوی پوجتا ہے اور وہ بھی اپنی عقل کے مطابق ایک الہام پر ہی عمل پیرا ہے۔ پس اگر ابتداء میں خدا تعالیٰ کا خیال ناقص تھا تو اس کا موجب یہ نہ تھا کہ انسان کے دماغ نے اس خیال کو ڈر سے پیدا کیا بلکہ اس کا موجب یہ تھا کہ انسانی دماغ بوجہ ناقص ہونے کے خدا تعالیٰ کے خیال کو مکمل صورت میں اخذ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس کی طاقتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کا خیال اس کے دماغ پر نقش کیا گیا اور خدا تعالیٰ کا وجود اسے مختلف مظاہر کی صورت میں دکھایا گیا اور پھر یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کی ہر اک شے ایک بالا طاقت کی مظہر ہے ؟ مجھے اس جواب کی صحت یا اس کے سقم پر اس وقت بحث کرنے کی ضرورت نہیں مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ جو لفظی الہام کے قائل ہیں یہ جواب منکرین خدا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے اگر الہام لفظوں میں نازل ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے