انوارالعلوم (جلد 6) — Page 274
انوار العلوم جلد 4 ۲۷۴ هستی باری تعالی یہ ہے کہ یہاں یہ ہی نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے وجود پر غور ہی کیوں کریں کیونکہ چو تھا جواب غور ہماری طرف سے شروع ہی نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ خود اپنے ایلچی بھیج بھیج کر ہمیں اپنی طرف بلاتا اور ہماری توجہ کو کھینچ رہا ہے ہیں جب بلاوا دوسری طرف سے آرہا ہے طرف اور ہماری توجہ کو بیچ رہا ہے بلاوا دوسری تو یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہم کیوں خدا تعالیٰ کے وجود کے دریافت کرنے کی کوشش کریں جب آواز ادھر سے آرہ ہی ہے تو ہماری کوشش کا سوال ہی اُٹھ گیا ۔ اگر چلتے چلتے ایک چیز ہمارے سامنے ہی آجائے تو ہم نہیں کہ سکتے کہ ہم اسے کیوں دیکھیں کیونکہ وہ چیز ہمارے ارادے سے پہلے ہمارے سامنے آگئی ہے۔ بیس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایلچی کے بعد ایچی ہماری طرف آرہا ہے تو اب اس سوال کے معنی ہی کیا ہوئے کہ ہم اس سوال پر کیوں غور کریں ۔ اس کا جواب صاف ہے کہ اس ہوئے کہ ہم اس غور کریں کہ یہ سوال ہمارے سامنے آگیا ہے اور ایسے رنگ میں آگیا ہے کہ اس سے غفلت کرنا ہمارے لئے نا ممکن ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فرستادوں کا سلسلہ ایسا چلایا ہے کہ ایک منکہ خدا کہہ سکتا ہے کہ دق کر دیا ہے اور جب تک لوگ انکار کرتے رہیں گے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا ۔ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم او سیح موعود کے آنے پر بھی جو لوگ نہیں مانتے اگر وہ انکار کرتے چلے جائیں گے تو پھر کسی اور رسول کو بھیج لئے غو دے گا۔ لوگوں میں خدا کا خیال کس طرح پیدا ہوا ؟ جب اس سوال کو اس طرح د کیا جاتا ہے خدا ہوا ؟ اور کا اور کو ہیں تو منکران خدا اور طرف رخ بدلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ فی الواقع ہوتا تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا خیال دنیا میں الہام کے ذریعہ سے پیدا ہوتا مگر ہم جیسا انسانی ارتقاء کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بالا بستی کا خیال آہستہ آہستہ قوموں میں پیدا ہوا ہے ۔ چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے اقوام میں ان اشیاء کی پرستش شروع ہوئی ہے جن سے انسان ڈرا ہے ۔ جس طرح ایک بچہ ڈر کر لجاجت اور گریہ وزاری کرنے لگ جاتا ہے اسی طرح جب انسان بعض چیزوں سے مرعوب ہوا اور ڈرا تو یہ ان کے آگے لجاجت کرنے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا اس سے عبادت پیدا ہوئی پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اپنے سے بالا ہستیوں کا خیال راسخ ہوتا گیا اور تعلیم کی ترقی کے ساتھ انسان نے ادنی چیزوں سے نظر اُٹھا کر صرف بالا ہستیوں کو پوجنا شروع کیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد جب اور علمی ترقی ہوئی تو بالا ہستیاں غیر مادی قرار پا گئیں اور جن چیزوں کی پہلے پرستش کی جاتی تھی وہ ان کا منظر قرار پائیں اور آخری