انوارالعلوم (جلد 6) — Page 261
انوار العلوم جلد 4 ۲۶۱ آئینه صداقت مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قادیان کی دیانت بھی گویا ساتھ ہی چلی گئی کیونکہ اس بات کا خطرہ ظاہر کیا۔ بات کا خطرہ ظاہر کیا جانے لگا کہ سب روپیہ خلیفہ خود لے لے گا اور جماعت کا روپیہ برباد ہو جاوے گا ۔ مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور گویا اسلام پر قادیان میں موت آگئی کیونکہ سمجھ لیاگیا کہ اب اسلام کے احکام کی علی الاعلان ہنگ ہوگی اور سلسلہ احمدیہ کو برباد کیا جاوے گا اور کوئی ہوش مند روکنے والا نہ ہوگا ۔ مولوی محمد علی صاحب چلے گئے اور قادیان کے مہاجرین کفار مکہ کے ہمرنگ بن گئے کیونکہ وعدہ دیا جانے لگا کہ دس سال کے عرصہ میں مولوی صاحب اپنے احباب سمیت قریہ قادیان کو فتح نے فتح کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے مثیل بن کر عزت و احترام کے ساتھ قادیان میں داخل ہونگے ۔ مگر حق یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود کی الهامی پیشگوئی پوری ہوئی کہ :- کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں وہ ( تذکره صفحه ۵۳۹ - ایڈیشن چهارم ) گے پس مقام خوف ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود کا وہ الہام پھر دوسری دفعہ پورا ہوا کہ " اخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِ یون " ( تذکرہ ۱۷۶ - ایڈیشن چهارم ، قادیان سے یزیدی لوگ نکالے جاویں گے۔ ایک دفعہ تو اس طرح کہ قادیان کے اصل باشندوں نے مسیح موعود کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور دوسری دفعہ اس طرح کہ وہ لوگ جو اہل بیت مسیح موعود سے بغض و تعصب رکھ کر یزیدی صفت بن چکے تھے وہ قادیان سے حکمت الٹی کے ماتحت نکالے گئے ۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود کا الهام اني مَعَكَ وَ مَعَ اهلك (تذکرہ صفحہ ۳۶، ڈیش چهارم) اور باوجود ان کے رسوخ اور جماعت کے کاموں پر تسلط کے خدا تعالیٰ نے میرے جیسے ناتواں وضعیف انسان کے مقابلہ پر ان کو نیچا دکھایا۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے زبردست نشانوں سے ثابت کر دیا کہ میرا سلسلہ شخصیت پر نہیں بلکہ اس کا متکفل میں خود ہوں چاہوں تو اس سے جو ذلیل سمجھا گیا اور بچہ قرار دیا گیا کام لے لوں ۔