انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 260

meta انوار العلوم جلد 4 ۲۶۰ آئینه صداقت آخر حضرت مسیح موعود کے یہاں وفات پانے سے کچھ خصوصیت تو اسے لاہور کو) بھی ملنی چاہئے ۔ اس فقرہ میں جس جاہ طلبی ، جس حصول مرتبت ، جس لجاجت ، جس اُمید ، جس خواہش کو مختصر الفاظ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کا لطف وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو سخن فہمی سے کوئی حصہ رکھتے ہیں ۔ مولوی محمد علی صاحب کا لاہور جانا تھا کہ مخالفت کا دریا اور بھی تیزی سے رائی کا پہاڑ بنانا انڈ نے لگا وہ بچوں کے کنکر پھینکنے کا ارادہ ظاہر کرنے کا واقعہ تھوڑے دنوں میں تبدیل ہو کر یوں بن گیا کہ بعض لڑکوں نے مولوی صاحب پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے لگے نہیں پھر ترقی کر کے اس نے یہ صورت اختیار کی کہ بعض لڑکوں نے آپ پر کنکر پھینکے مگر شکر ہے کہ آپ کی آنکھ بچ گئی اور پھر اس سے بھی ترقی کر کے اس نے یہ ہیئت اختیار کی کہ قادیان کے لوگوں نے کنکر پھینکے اور اس کے بعد یہ کہ قادیان کے لوگوں سے آپ کی جان محفوظ نہ تھی ۔ چنانچہ ابتداء اس طرح شروع بھی ہوگئی تھی کہ قادیان کے لوگوں نے آپ پر پتھر پھینکے اور یہ آخری روایت مولوی محمد علی صاحب نے امرتسر میں متعدد آدمیوں کے سامنے بیان کی ۔ کے صاح مولوی محمد علی صاحب چلے جانے کے بعد قادیان کا کیا کیا اور ان کی کیا اقایان چلے گئے خیال کا سورج غروب ہو گیا مسیح موعود کا بنایا ہوا مرکز ٹوٹ گیا ۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور سمجھ لیا گیا کہ اب اسلام کا یہاں نام باقی نہ رہیگا۔ مرزا یعقوب بیگ صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم جاتے ہیں ابھی دس سال نہ گزریں گے کہ یہ جگہ عیسائیوں کے قبضہ میں ہو گی ۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی روح فاعلی نکل گئی عام طور پر کہا جانے لگا کہ اب وہاں کوئی آدمی کام کے قابل نہیں ۔ زیادہ دن نہ گزریں گے کہ قادیان کا نکام بند ہو جائے گا۔ مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے اور گویا قادیان کی برکت سب جاتی رہی مد علی سے چلے اور کی برکت علی الاعلان اس امر کا اظہار ہونے لگا کہ چندہ بند ہو جاوے گا اور یہ لوگ بھوکے مرنے لگیں گے تو خود ہوش آجا دے گا۔