انوارالعلوم (جلد 6) — Page 259
انوار العلوم جلد و ۲۵۹ آئینہ صداقت مولوی محمد علی صاحب نے ایک شخص المعروف میاں بگا کو جو کی قدر موٹی عقل کا آدمی تھا آواز دی کہ ادھر آؤ اور اس سے ادھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں ۔ جب میں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب میاں بگا سے کلام ختم ہی نہیں کرتے تو لا چار اُٹھ کر چلا آیا۔ اس کے بعد مولوی صاحب قادیان سے چلے گئے اور قریباً تین ہزار روپیہ کا سامان کتب و ٹائپ رائٹر وغیرہ کی صورت میں ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے ۔ اس وقت بعض احباب نے مجھ سے کہا کہ ان سے یہ اسباب کے لیا جاوے کیونکہ یہ پھر واپس نہ آئیں گے اور محض دھوکا دے کر یہ اسباب لئے جا رہے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کی امانت ہے آپ اس کی حفاظت ہمیں کوتاہی نہ کریں مگر میں نے ان سب احباب کو یہی جواب دیا کہ جب وہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کریم کے ترجمہ کیلئے ان کتب کو اور اسباب کو لئے جا رہا ہوں اور صرف چند ماہ کے لئے اپنی سابقہ رخصت کے مطابق جا رہا اور جا رہا ہوں تو ہمارا حق نہیں کہ ان کی نیت پر حملہ کریں اور میں نے ان کو کچھ نہ کہا۔ جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا ان احباب ولوی محمد علی صاحب کا سرقہ کرنا کی رائے درست تھی مولوی صاح ۔ صاحب قادیان سے گئے اور ہمیشہ کے لئے گئے اور جو کچھ انہوں نے مجھے لکھا وہ سب ایک بہانہ تھا جس کے نیچے کوئی حقیقت پوشیدہ نہ تھی۔ وہ کتب و اسباب جو وہ لے گئے تھے بعد میں اس کے دینے سے انہوں نے باوجود تقاضا کے انکار کر دیا اور جب تک دنیا کے پردہ پر مولوی محمد علی صاحب کا نام باقی رہے گا اس وقت تک ان کے نام کے ساتھ یہ سرقہ کا بد نما عمل بھی یاد گار رہے گا۔ جو شخص اس طرح عاریتاً كتب و اسباب لے کر چند ماہ کے بہانہ سے جاتا اور پھر اس کی واپسی سے انکار کر دیتا ہے وہ ہرگزہ کسی جماعت کا لیڈر ہونے کا مستحق نہیں۔ خصوصاً مسلمانوں کی سرداری کا عہدہ اس سے بہت ہی بالا ہے ۔ مولوی صاحب کا قادیان سے جانا تھا کہ لاہور مدینہ المسیح لاہور کو مدینہ اسی بنانا ہی کیا ھی کر لوں کے دلوں میں طبعا یہ سوال پیدا ہونے بن حتی کہ کو لوگوں کے دلوں میں طبعا یہ سوال پیدا ہوں۔ لگا کہ کیا مولوی محمد علی صاحب مسیح موعود ہیں کہ جب تک وہ قادیان میں تھے قادیان مدینہ المسیح تھا اور جب وہ لاہور چلے گئے تو لاہور مدینہ المسیح ہو گیا ۔ خیر اسی طرح لاہور کو بھی کچھ خصوصیت مل گئی اور منتظمان پیغام صلح کی وہ خواہش بر آئی جو مار مارچ کے پرچہ میں بے اختیار ان کی قلم سے نکل گئی تھی اور جس کے یہ الفاظ ہیں :۔