انوارالعلوم (جلد 6) — Page 258
انوار العلوم جلد 4 ت ۲۵۸ آئینه صداقت جماعت احمدیہ کا مشورہ اور فیصلہ قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ میری خلافت جائز و درست نہیں مگر ان ایک سو دس آدمیوں سے بھی دس آدمی بعد میں میری بیعت میں شامل ہو گئے جن میں سے ایک سید میر حامد شاہ صاحب مرحوم تھے جن کو انہوں نے خلیفہ المسیح بھی منتخب کیا تھا اور کل سو آدمی رہ گئے مگر باوجود اس کے اس جلسہ میں جو فیصلہ ہوا وہ جماعت کا فیصلہ تھا اور جو کل جماعت کا فیصلہ تھا وہ سازش کا نتیجہ اور انصار اللہ کی فریب بازی تھی ۔ ان لوگوں کا قادیان کو چھوڑنا قادیان کی جماعت میں سے سب کے سب سوائے چار پانچ ری بیعت میں شامل تھے اور اب قادیان میں کسی کامیابی کی امید یہ لوگ دل سے نکال بیٹھے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور کو مرکز بنایا جاوے مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سے جانے کے لئے عذر تلاش کئے جانے لگے اور آخر ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ مولوی صاحب جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے کہ تین چار س مجھے دی جمعہ کی پڑھ کر باہر مل رہے تھے کہ ؟ بچوں نے (جو پانچ سات سال تک کی عمر کے تھے، ان پر کنکر پھینکنے کے ارادہ کا اظہار کیا۔ میں نے اس پر درس کے وقت سب جماعت کو سمجھایا کہ گو بچوں نے ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ مگر پھر ایسی بات سنی گئی تو میں ان کے والدین کو ذمہ دار قرار دوں گا اور سختی سے سزا دوں گا۔ مولوی محمد علی صاحب کو قادیان سے جانے سے باز رکھنے کی کوشش بعد میں میں نے سنا که مولوی محمد علی صاحب کو یہاں خوف ہے اس لئے وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں ۔ میں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک خط لکھ کر دیا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاویں اور ان کو نسلی دیں کہ آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں میں آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور آپ قادیان نہ چھوڑیں۔ خط میں بھی اسی قسم کا مضمون تھا۔ خط کا جواب مولوی محمد علی صاحب نے یہ دیا کہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ میں قادیان چھوڑ دوں۔ میں تو صرف گرمی کے سبب پہاڑہ پر ترجمہ قرآن کا کام کرنے کے لئیے جاتا ہوں اور اس کے لئے حضرت خلیفہ البیع الاول کی زندگی میں ہی میں نے انجمن سے رخصت لے رکھی تھی اور میرا شکریہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی ہمدردی کی ۔ میں نے صرف اسی قدر کافی نہ سمجھا بلکہ اس کے بعد ان سے اسی مضمون کے متعلق زبانی گفتگو کرنے کے لئے خود ان کے گھر پر گیا ۔ میرے ہمراہ خان محمد علی خان صاحب اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب تھے جب ہم وہاں پہنچے تو ابتدائ کچھ ذکر ترجمہ قرآن کے متعلق ہوا ۔ اس کے بعد میں نے اس امر کے متعلق کلام کا رخ پھیرا جس کے لئے میں آیا تھا کہ فوراً