انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 245

انوار العلوم جلد 4 ۲۴۵ آئینہ صداقت یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جبکہ آپ اپنے آقا مسیح موعود کے پاس جا کر اسے اپنے کام کو امانت سے ختم کرنے کی خبر دینے والے تھے ۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جس وقت آپ اپنی عمر کا آخری باب ختم کر رہے تھے۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی کہ جس کے بعد آپ جماعت کی اور کوئی خدمت کرنے کی امید نہ رکھتے تھے۔ یہ اسوقت گئی تھی وقت ضعف و سے آپ بیٹھ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جس وقت ضعف و نقاہمت سے آپ بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور یہ وصیت بھی نہایت تکلیف سے آپ نے لیٹے لیٹے ہی لکھی تھی ۔ غرض یہ وصیت اس وقت لکھی گئی تھی جبکہ ایک عظیم الشان انسان اپنی مقدس زندگی کی آخری ی زندگی کی گھڑیاں گزار رہا تھا جس وقت ایک طرف تو اپنے پیدا کرنے والے اپنے محبوب حقیقی کی ملاقات کا شوق اس کے دل کو گد گدا رہا تھا اور دوسری طرف اپنی وفات کے ساتھ ہی اپنی آخری عمر کی محنت و کوشش کے اکارت جانے کا خوف اس کے دل کو ستا رہا تھا ۔ غرض وہ اس کی گھڑیاں خوف ورجا کی نازک گھڑیاں تھیں ۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے ہاتھ پر تمام جماعت احمد یہ سوائے معدودے چند آدمیوں کے بیعت کر چکی تھی۔ یہ وصیت اس نے تحریر کی تھی جو علاوہ خلیفہ المسیح ہونے کے یوں بھی تقوی اور دیانت میں تمام جماعت پر فضیلت رکھتا تھا ۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے احسانات دینی و دنیاوی جماعت کے کثیر حصہ پر حضرت مسیح موعود کے ایام زندگی سے ہی ہوتے چلے آئے تھے۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جو قرآن و حدیث کا کامل ماہر اور ان کا عاشق تھا۔ ت نے بھی تھی جو قرآن و حدیث کا کا ماہر اوران کا عاشق تھا۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کے ہر ایک حکم کی اطاعت کا اقرار مولو محمد علی صاحب کر چکے تھے۔ وصیت اس نے جسکے ہر ایک کی الات روی کرچکے یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس کی شاگردی کا جوا مولوی محمد علی صاحب کی گردن پر رکھا ہوا تھا۔ رومیت اس نے بھی ھی جس کی شاگردی کا جو مولوی محدعلی صاحب کی پرکھا ہواتھا۔ یہ وصیت اس نے لکھی تھی جس نے باوجود سخت نقاہت اور ضعف کے اپنی بیماری کے یہ وصیت نے تھی نے باوجود اور کے آخری ایام میں مولوی محمد علی صاحب کو قرآن پڑھایا ۔ غرض یہ وصیت اس کی لکھی ہوئی تھی جس کی اطاعت خدا تعالی کی طرف سے مولوی محمدعلی صاب پر فرض ہو چکی تھی اور جس کے احسانات کے نیچے ان کی گردن جھکی جاتی تھی۔