انوارالعلوم (جلد 6) — Page 244
الدار العلوم جلد 4 ۲۴ آئینه صداقت کے ایک مضمون سے جس میں غلطی سے ڈائری نویس نے ان کی طرف اشارہ کر دیا تھا یا وجود اس کی تردید ہو جانے کے انہوں نے اس کو تشہیر دیگر اپنی مظلومیت کا اظہار شروع کر رکھا ہے۔ خدا تعالیٰ سے طلب امداد غرض جس وقت یہ ٹرکیٹ میں نے پڑھا۔ میں حیران ہوگیا اور میں نے فتنہ کو آتا ہوا دیکھ لیا اور سمجھ لیا کہ مولوی محمد علی صاحب بغیر تفریق کے راضی نہ ہوں گے۔ ایسے وقت میں ایک مومن سوائے اس کے اور کیا کر سکتا ہے کہ خدا تعالی کے حضور گر جائے اور اس سے مدد طلب کرے ۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا اور خود بھی دُعا میں لگ گیا ۔ اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں میرے ساتھ تھے ان کو جگایا اور ان کو اس ٹرکیٹ سے آگاہی دی اور ان کو بھی دعا کے لئے تاکید کی۔ ہم سب نے دعائیں کیں اور روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدی جو میرے ہم خیال تھے اس دن روزہ دار تھے۔ حضرت خلیفہ اول سے آخری وقت میں مولوی محمد علی صاحب کا یہ ٹریکٹ انکے باطنی مولوی محمد علی صاحب کا نهایت سنگدلانہ سلوک خیالات پر بہت کچھ روشنی ڈالتا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ کس طرح اس ٹرکیٹ کی خاطر انہوں نے مجھ سے دھوکا گیا۔ مگر میں اب اس سلوک کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس ٹریکٹ کی اشاعت سے انہوں نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سے کیا ۔ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی جب اپنے کسی عزیز کو بستر مرگ پر دیکھتا ہے تو اس سے دھو کا کرنا پسند نہیں کرتا ۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الاول سے کیا سلوک کیا ؟ آپ نے اپنی وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دی اور ان سے تین بار پڑھوائی اور پھر دریافت کیا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی اور انہوں نے اقرار کیا کہ نہیں بالکل درست ہے ۔ یہ وصیت صحت میں نہیں لکھی گئی بلکہ بیماری میں اور عین اس وقت جبکہ دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے زندگی کی اُمید بالکل منقطع ہو چکی تھی ۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی جبکہ حضرت خلیفہ البیع الاول اپنی موت کو قریب دیکھ رہے تھے اور اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے آقا و مولیٰ سے ملنے کی اُمید میں تھے۔ یہ وصیت اس وقت لکھی گئی جبکہ اس جماعت کو جسے چھ سال سخت تکلیف کے ساتھ خطرناک ساتھ سے خطرناک ابتلاؤں کی آندھیوں اور طوفانوں سے بچا کر آپ کا میابی کے راستہ پر لے جا رہے تھے آندھیوں اور طوفانوں سے بجا کہ آپ کا بانی کے آپ چھوڑنے والے تھے اور اس کی آئندہ بہتری کا خیال سب باتوں سے زیادہ آپ کے پیش نظر تھا ۔