انوارالعلوم (جلد 6) — Page 246
انوار العلوم جلد 4 ۲۴۶ آئین صداقت یہ وصیت مولوی محمد علی صاحب کو پڑھوائی گئی تھی اور ایک دفعہ نہیں بلکہ تین بار یہ وصیت جب لکھی جا چکی اور مولوی محمد علی صاحب اس کو پڑھ چکے تو ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی ۔ تو ہاں یہ وصیت جب لکھی جاچکی اور مولوی محمد علی صاحب سے دریافت کیا گیا کہ اس میں کوئی بات رہ تو نہیں گئی تو انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بالکل درست ہے ۔ غرض یہ وصیت ایک زبردست وصیت تھی ۔ اس کا کوئی پلو نامکمل نہ تھا۔ اس کا لکھنے والا کامل درست ہے کے لکھنے کا وقت خاص الخاص اس کالم مولوی محم عل صاحب کو پوری طرح دیا گیا۔ اور ان سے اس کے درست ہونے کا اقرار لیا گیا ہیں اس کی تعمیل ان پر واجب اور فرض تھی۔ مگر انہوں نے کیا کیا ہواوری صاحب نے اس امانت سے وہ سلوک کیا جو کسی نے کبھی نہ کیا تھا ۔ جس وقت وہ حضرت خلیفتہ اسیح کی وصیت پڑھ رہے تھے اس وقت ان کے دل میں یہ خیالات جوش زن تھے کہ میں ایسا کبھی نہیں کرنے دوں گا۔ وہ اپنے پیر کو اس کے بستر مرگ پر دھوکا دے رہے تھے ان کا جسم اس کے پاس تھا۔ مگر ان کی روح اس سے بہت دور اپنے خیالات کی ادھیڑ بن میں تھی۔ اور انہوں نے وہاں سے اٹھ کر غالباً سب سے پہلی تحریر جو بھی وہ وہی تھی جس میں اس بیت کے خلاف جماعت کو اکسایا تھا اور گو مخاطب اس میں مجھے یا اور بعض گمنام شخصوں کو کیا گیا تھا مگر در حقیقت اس وصیت کی دھجیاں اُڑائی گئی تھیں جس کی تصدیق چند ساعت پہلے وہ اپنے مرشد و بادی کے بستر مرگ کے پاس نہایت سنجیدگی کے ساتھ کر چکے تھے۔ مولوی محمد علی صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی وہ تحریر اس وصیت سے پہلے کی تھی، کیا اگر وہ پہلے کی تھی تو کیا وہ اس کو واپس نہیں منگوا سکتے تھے۔ کیا وصیت کے بعد کافی عرصہ اس کے واپس منگوانے کا ان کو نہیں ملا۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے ٹریکٹ میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرما دیا ہے کہ ان کا ایک جانشین ہو۔ بین ہو۔ مولوی محمد علی صاحب صرف ایک بہانہ بناتے ہیں اور وہ یہ کہ حضرت خلیفہ المسیح کا جانشین سے یہ مطلب تھا کہ ایک ایسا شخص جماعت میں سے چنا جاوے جس کے حکموں کی قدر کی جاوے۔ لیکن ہاتھا کہ ایسا شخص میں سے چنا جس کے ملکوں کی کی قدر کی جاوے بیکین ان کی یہ تشریح جھوٹی تشریح ہے ۔ وہ قسم کھا کر بتادیں کہ کیا حضرت خلیفہ المسیح کا یہ مذہب نہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود کے خلیفہ ہیں اور آپ کی بیعت بطور خلیفہ کے کی گئی ہے نہ کہ بطور بڑے صوفی