انوارالعلوم (جلد 6) — Page 238
انوار العلوم جلد 4 ۲۳۸ آمینه صداقت ہے احمدیت کے مٹنے کا اندیشہ ہے۔ مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے۔ شخصیتوں کے خیال سے اتحاد کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کو خاص طور پر سمجھا نا شروع کیا کہ خدا نخواستہ حضرت خلیفہ امسیح کی وفات پر اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو ہمیں خواہ وہ لوگ تھوڑے ہی ہیں ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے کیونکہ میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی ہمارا ہم عقیدہ شخص خلیفہ ہوا تو وہ لوگ اس کی بیعت نہیں کریں گے اور جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اور جب میں ان میں سے کسی کی بعیت کر لوں گا تو امید ہے کہ میرے اکثر احباب اس کی بیعت اختیار کرلیں گے اور فساد سے جماعت محفوظ رہے گی۔ چنانچہ ایک دن عصر کے بعد جبکہ مولوی سید محمد سرور شاہ مد سرور شاہ صاحب جو ہماری جماعت کے سب سے بڑے علماء میں صا۔ سے ایک ہیں میرے ساتھ سیر کو گئے تو تمام سیر میں دو گھنٹہ کے قریب ان سے اسی امر پر بحث ہوتی رہی اور آخر میں نے ان کو منوا لیا کہ ہمیں اس بات کے لئے پورے طور پر تیار ہونا چاہئے کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کسی جماعت میں سے ہو ؟ تو ہم ان میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں ۔ ضعف ۱۳۰۰ المسیح آخر وہ دن آگیا جس سے ؟ وہ دن آگیا جس سے ہم ڈرتے تھے ۔ ۳ ار مارچ کو حضرت خلیفہ اول کی وفات مجمعہ کے دن صبح کے وقت حضرت خلیفہ امین کو بہت معلوم ہونے لگا اور ڈاکٹروں نے لوگو کا اندر جانا منع کردیا۔ مگر پھر بھی عام طور پر لوگوں کا یہ خیال نہ تھا کہ وہ آنے والی مصیبت ایسی تقریب ہے۔ آپ کی بیماری کی وجہ سے آپ کی جگہ جمعہ بھی اور دیگر نمازیں بھی آپ کے حکم کے ماتحت میں پڑھایا کرتا تھا چنانچہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔ نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کے لئے میں گھر گیا ۔ اتنے میں ایک شخص خان محمد علی خان صاحب کا ملازم میرے پاس ان کا پیغام لیکر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہے اور ان کی گاڑی کھڑی ہے چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوارہ ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ ابھی ہم راستہ میں تھے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفہ المسیح فوت ہو گئے ہیں اور اس طرح میری ایک پرانی رویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔ یہ خبر اس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔ حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے بڑھکر جماعت میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا۔