انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 239

انوار العلوم جلد 4 ۲۳۹ آئینه صداقت اسی وقت تمام جماعت کو اطلاع کے لئے حضرت خلیفہ اول کی وفات پر یہی تقریر میں ان کے صورت تاری روانه دعا میں اکثر حصہ جماعت لگ گیا ۔ عصر کے وقت مسجد نور میں جبکہ جماعت کا اکثر حصہ وہاں جمع تھا۔ میں نے ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا :۔ // حضرت خلیفہ المسیح کی وفات کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری رکھی گئی ہے۔ جس کے پورا کرنے کے لئے سب جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے۔ کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ ہو ۔ اگر ارادہ بد ہو تو وہ خراب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے پڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اعوذ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل کی ہے۔ اعوذ میں انسان بد نیتی سے پناہ مانگتا ہے اور بسم اللہ کے ذریعہ عمل نیک کیت کی توفیق چاہتا ہے۔ بیس جبکہ قرآن کریم کی تلاوت جو خدا کا کلام ہے اور جس کا پڑھنا خدا تعالیٰ نے فرض کیا ہے ۔ اس کے لئے اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے تو دوسرے کاموں کے لئے خواہ کتنے ہی نیک ہوں۔ کسی قدر احتیاط کی ضرورت ہے ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نماز کے متعلق فرماتا ہے : فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ - الماعون : ۵ تاء) مینی عذاب ہے ان نمازیوں کے لئے جو فرض نماز سے نا واقف ہوتے ہیں اور لوگوں کے دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ وہ نمازہ جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے اسی کو اس آیت میں نیت کے فرق کے ساتھ موجب عذاب قرار دیا ہے۔ پس جو امانت اب ہمارے سپرد کی گئی ہے اس کے پورا کرنے کے لئے ہمیں خاص دعاؤں میں لگ جانا چاہئے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بہت پڑھنا چاہئے تاکہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو اور اس کی رضا ہم پر ظاہر ہو۔ اگر خدا تعالیٰ نے مدد نہ کی تو خطرہ ہے کہ ہم ہلاکت میں نہ پڑ جائیں ۔ پس آج سے ہر ایک شخص چلتے پھرتے نمازوں میں اور نمازوں سے باہر دعا میں لگ جاوے تا خدا ہماری حفاظت کرے اور سیدھے راستہ سے نہ ہٹنے دے اور رات کو اُٹھ کر بھی دعا کرو اور جن کو طاقت ہو روزہ رکھیں ۔ اس کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل کر میں نے دعا کی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے ۔ تفصیل ملاحظہ ہو الحکم ۱۴ مارچ ۱۹۱۳ نه جلد ۱۸ نمبر ۳، ۴ ص )