انوارالعلوم (جلد 6) — Page 237
انوار العلوم جلد له ۲۳۷ آئینہ صداقت دیں ۔ گوئیں حیران تھا کہ اظہار الحق نامی ٹریکٹیوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا جماعت کے اختلاف سے نا واقف ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟ مگر میں نے مولوی صاحب کی اس بات کو قبول کر لیا ۔ میں اس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ یہ بھی ایک دھوکا ہے جو مجھ سے کیا گیا ہے لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ کا ہے مولوی محمد علی صاحب نے اپنے مدعا کے پورا کرنے کے لئے کسی فریب اور دھوکے سے بھی پرہیز نہیں کیا اور اس اشتہار پر دستخط کرنے سے انکار کی وجہ یہ نہ تھی کہ عام طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ جماعت میں کچھ اختلاف ہے بلکہ ان کی غرض کچھ اور تھی ۔ خلیفہ المسیح کے ایام بیماری میں ایک خاص اجتماع قادیان کے لوگ مسجد نورمیں جو سکول کی مسجد ہے اور خان محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی کوٹھی کے قریب ہے جہاں کہ ان دنوں حضرت خلیفہ مسیح بیمار تھے جمع ہوئے اور میں اور مولوی محمد علی صاحب تقریر کرنے کے لئے وہاں گئے مولوی محمد علی صاحب نے پہلے خواہش ظاہر کی کہ پہلے میں تقریر کروں اور میں بغیر کسی خیال کے تقریر کے لئے کھڑا ہو گیا اور اس میں میں نے وہی اشتہار کا مضمون دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا اور اتفاق پر زور دیا۔ جب مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہوئے تو انہوں نے بجائے اتفاق پر زور دینے کے پچھلے قصوں کو دہرانا شروع کیا اور لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ وہ خواجہ صاحب پر یا ان کے دوسرے ہم خیالوں پر کیوں حملہ کرتے ہیں ؟ اور خوب زجر و توبیخ کی۔ لوگ میرے لحاظ سے بیٹھے رہے ورنہ ممکن تھا کہ بجائے فساد کے رفع ہونے کے ایک نیا فساد کھڑا ہو جاتا اور اسی مجلس میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی ۔ آخر میں کچھ کلمات اتفاقی کے متعلق بھی انہوں نے کے مگر وہ بھی سخت لہجہ میں جس سے لوگوں میں زیادہ نفرت پیدا ہوئی اور افتراق میں ترقی ہوئی۔ سے جماعت کے اتحاد کی کوششیں چونکہ حضرت خلیفہ مسیح کی طبیعت کچھ دنوں زیادہ علیل تھی اور لوگ نہایت افسوس کے ساتھ آنے والے خطرہ کو دیکھ رہے تھے۔ طبعاً ہر ایک شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا تھا کہ اب کیا ہو گا پائیں تو برا بر دعاؤں میں مشغول تھا اور دوسرے دوستوں کو بھی دُعاؤں کے لئے تاکید کرتا تھا۔ اس وقت اختلافی مسائل میرے سامنے نہ تھے بلکہ جماعت کا اتحاد مد نظر تھا اور اس کے زائل ہو جانے کا خوف میرے دل کو کھا رہا تھا۔ چنانچہ اس امرکے متعلق مختلف ذی اثر احمدیوں سے میں نے گفتگوئیں کیں ۔ عام طور پر ان لوگوں کا جو خلافت کے منظر تھے اور نبوت مسیح موعود کے قائل تھے یہی خیال تھا کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جا سکتی۔ جس کے عقائد ان عقائد کے خلاف ہوں ۔ کیونکہ اس لبيت