انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 236

انوار العلوم جلد 4 ۲۳۶ آئینه صداقت وعیت کا مولوی محمد علی صاحب سے پڑھوانا جب آپ نے وصیت بھی مولوی محمد علی صحاب پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لکھ کر ان کو دی اور کیا کہ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھوائی۔ اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی ۔ مولوی محمد علی صاحب جو اپنے دل میں خلافت کے مثانے کی فکر میں تھے اور تدابیر کوچ رہے مجھے رہے تھے اس وصیت کو پڑھ کر حیران رہ گئے اور اس وقت ہر ایک شخص ان کے چہرہ پر ایک عجیب قسم کی مردنی اور غصہ دیکھ رہا تھا ۔ جو حضرت خلیفہ المسیح کے وصیت لکھوانے کے باعث نہ تھا۔ بلکہ اپنی سب کوششوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھنے کا نتیجہ تھا۔ مگر حضرت خلیفہ اول کا رعب ان کو کچھ بولنے نہ دیتا تھا ۔ باوجود مخالف خیالات کے انہوں نے اس وقت یہی لفظ کے کہ بالکل درست ہے مگر آئندہ واقعات بتائیں گے کہ کسی مرید نے کسی خادم نے کسی اظہار عقیدت کرنے والے نے اپنے پیر اور اپنے آقا اور اپنے شیخ سے عین اس وقت جبکہ وہ بستر مرگ پر لیٹا ہوا تھا اس سے بڑھ کر دھوکا اور قریب نہیں کیا جو مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔ سے چونکہ نگرانی اُٹھ گئی تھی اور خلیفة المسیح کی زامیس کی بیماری اختلای سال کا چرایا اور ان کی نایابی کوردی مسائل کوئی پوچھنے والانہ تھا۔ اختلافی مسائل پر گفتگو بہت بڑھ گئی اور جس جگہ دیکھو یہی چرچا رہنے لگا۔ اس حالت کو دیکھ کر میں نے ایک اشتہار لکھا جس کا یہ مضمون تھا کہ جس وقت کہ حضرت خلیفہ المسیح تندرست تھے۔ اختلافی مسائل پر آپس میں ہماری بحثوں کا کچھ حرج نہ تھا۔ کیونکہ اگر بات حد سے بڑھے یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو روکنے والا موجود تھا ۔ لیکن اب جبکہ حضرت خلیفہ المسیح بیمار ہیں اور سخت بیمار د او ہیں ۔ مناسب نہیں کہ ہم اس طرح بخشیں کریں اس کا انجام فتنہ ہوگا ۔ اس لئے اختلافی مسائل پر اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ امسیح کو شفاء عطا فرما دے اور آپ خود ان بحثوں کی نگرانی کر سکیں نہ کوئی تحریر لکھی جائے اور نہ زبانی گفتگو کی جاوے تا کہ جماعت میں فتنہ نہ ہو۔ یہ اشتہار لکھ کر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھی بھیجا کہ آپ بھی اس پر دستخط کر دیں تاکہ ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہو اور نفقہ سے جماعت محفوظ ہو جاوے مولوی محمد علی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا کہ چونکہ جماعت میں جو کچھ اختلاف ہے اس سے عام طور پر لوگ واقف نہیں ۔ الیسا اشتہار ٹھیک نہیں اس سے دشمنوں کو واقفیت حاصل ہوگی اور منی کا موقع ملے گا۔ بہتر ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جاوے اور اس میں آپ بھی اور میں بھی تقریریں کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کم