انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 232

انوار العلوم جلد 4 ۲۳۲ آئینه صداقت نکه دائرہ اسلام سے وہ خارج نہیں اور اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا انکار بھی ایک جزو کا انکار ہے ۔ نہ کہ دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ۔ یہ عقیدہ ایک ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ اس سے اسلام کی ہی بیکنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم اسلام کے لئے اللہ، ملائکہ ، کتب سماویہ ، ارسل اور یوم آخر پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے۔ پس یہ بات جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے۔ ہرگز حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی لکھائی ہوئی یا پسند کی ہوئی نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کا مذہب بدر ۹ مارچ سال اللہ کے پرچہ میں اس طرح درج ہے ۔ میں اس طرح درج ہے لا اله الا اللہ کے ماننے کے نیچے خدا کے سارے ناموروں کے مانے کا حکم آجا تاہے حضرت آدم حضرت ابراہیم، مولی ، ان سب کا ا نا الى حضرت آدم ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت مسیح ان سب کا ماننا اسی بد الله الله " اللہ کے ماتحت ہے حالانکہ ان کا ذکر اس کلمہ میں نہیں۔ قرآن مجید کا ماننا ، سید نا حضرت محمد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ، قیامت کا ماننا، سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے ؟ پس حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے اس فتوی کی موجودگی میں اور خود اس فتوی کے صریح باطل ہونے کے باوجود کون شخص خیال کر سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے بمضمون حضرت خلیفہ المسیح کے لکھوائے ہوئے نوٹوں کے مطابق لکھا ہے اور آپ کی پسندیدگی کے بعد شائع کیا ہے ۔ دوسری اندرونی شہادت یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اس دوسری شهادت رسالہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کے ایسے غلط معنے کئے ہیں کہ کریم وہ عربی زبان کے قواعد کے بالکل بر خلاف ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف ہیں بلکہ ایک رنگ میں ان کی تردید حضرت خلیفہ المسیح نے کی ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں :۔ قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَنْهُمْ (الانعام : ۹۲) یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دو" * یعنی آیت قُلِ اللهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ کے یہ معنے ہیں کہ لوگوں سے خدا منوالو اور پھر ان کو چھوڑ دو۔ اسی قدر ان کے اسلام کے لئے کافی ہے لیکن جب ہم آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں تو وہ اس طرح ہے ۔ دما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْ قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيْسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَ عَلِمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي مسئلہ کفر و اسلام مصنفہ مولوی محمد علی صدا