انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 233

انوار العلوم جلد 4 ۲۳۳ آمینه صداقت خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ (الانعام ، ۹۲ مینی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اندازہ پورے طور پر نہیں لگایا جبکہ انہوں نے یہ بات کہی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کچھ نہیں اُتارا کہ کون ہے جس نے وہ کتاب اتاری تھی جو موسی لائے تھے جو نور تھی اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی ۔ جس کتاب کو تم ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہو۔ اس میں سے بعض کو ظاہر کرتے ہو اور بہت جھتے کو چھپاتے ہو۔ اور تم وہ بات سکھائے گئے ہو۔ جو نہ تم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپ دادے جانتے تھے یعنی قرآن کریم میں تو ایسے علوم ہیں جو توریت میں نہ تھے پھر وہ خدا کی کتاب ہو گئی اور یہ نہ ہوئی کہ یعنی تو ان کو اپنی طرف سے کہ دے کہ خدا تعالیٰ نے موسی کی کتاب اُتاری تھی اور یہ جواب مسکت ان کو دے کر ان کو چھوڑ دے کہ یہ اپنی شرارتوں میں کھیلتے رہیں ۔ اس آیت میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ خدا کو منوا کر چھوڑ دو۔ اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بندہ پر بھی العام نازل نہیں کیا۔ اس کے جواب میں تو ان سے پوچھے کہ موسی کی کتاب کس نے نازل کی تھی اور پھر اپنی طرف سے کہ دے کہ وہ خدا نے نازل کی تھی اور چونکہ یہ جواب ان کے عقیدہ کے مطابق ہے اور یہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے اس لئے اس جواب کے بعد اس مسئلہ پر زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں پھر ان کو چھوڑ دو کہ دین پر ہنسی کرتے ہیں۔ عربی زبان کے مطابق مولوی محمد علی صاحب کے کئے ہوئے منے کسی طرح جائز نہیں۔ خود ان کے شائع کردہ ترجمہ قرآن میں بھی یہ منے نہیں کئے گئے بلکہ وہی معنے کئے گئے ہیں جو میں نے لکھے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :- "And they do not assign to Allah the attributes due to Him, when they say: Allah has not revealed anything to a mortal۔ Say: Who revealed the Book which Moses brought a light, and a guidance to men, which you make into scattered writings, which you show, while you conceal much? And you were taught what you did not know, (neither) you nor your fathers۔ Say: Allah; then leave them sporting in their vain discourses page۔ 306۔ اگر وه معنی درست ہوتے جو مولوی صاحب نے اس رسالہ میں لکھتے ہیں تو کیوں وہ قرآن کریم میں وہ ترجمہ نہ لکھتے ؟ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ پہلے سے جانتے تھے کہ یہ ترجمہ غلط ہے اور محض دھوکا دینے کے لئے انہوں نے اس رسالہ میں غلط معنے کر دیئے ہیں ۔ اور یا یہ کہ اعتراضوں سے گھرا کر انہوں نے اپنے ترجمہ میں چھپنے سے پہلے تبدیلی کر دی ۔ ان کا خود ان معنوں ان معنوں کو غلط تسلیم کر لینا اس امر سے بھی سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کے بعد کفر و اسلام کے متعلق انہوں نے متعدد تحریروں میں بحث کی ہے مگر کبھی اس آیت