انوارالعلوم (جلد 6) — Page 231
انوار العلوم جلد 4 ۲۳۱ آئینه صداقت کسی کہ میرا مطلب کچھ اور تھا۔ مگر چونکہ مرحوم کی عمراس وقت چھوٹی تھی ۔ ہم ان کی شہادت پر اپنے دعویٰ کی بناء نہیں رکھتے ۔ ہمارے پاس ایسی زبردست اندرونی شہادت موجود ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یا تو مضمون کو حضرت خلیفہ المسیح نے ناپسند کیا اور یا پھر ان کے دکھانے کے بعد اسے بدل دیا گیا اور یا اسے ایسے وقت میں سنایا گیا کہ جس وقت آپ کی توجہ کسی اور کام کی طرف تھی اور آپ نے اس کو سنا ہی نہیں ۔ اور وہ شہادت خود مولوی محمد علی صاحب کا مضمون ہے ۔ اس مضمون میں کئی ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو حضرت خلیفہ المسیح الاول جیسے عالم و فاضل آدمی کی طرف تو کجا ایک معمولی سمجھ سے آدمی کی طرف بھی منسوب نہیں ہو سکتیں مثال کے طور پر ہم چند باتیں ذیل میں درج کرتے ہیں :- پہلی شہادت اس میں اسلم کی تعریف قرآن کریم واحادیث سے یہ ثابت کی ہے کہ الہ تعالے اور یوم پر ایان کے نا کافی ہے آخر محمد علی صاحب اس رسالہ میں لکھتے ہیں :- لے اور کسی امر کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ مولوی بلکہ خود قرآن کریم نے ایک ہی آیت میں بالکل صاف کر دیا ہے جہاں فرمایا وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ (یوسف ، ۱۰) جس میں یہ سمجھایا ہے کہ اکثر لوگوں کا تو یہی حال ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود دل کے کسی نہ کسی کو نہ میں شرک باقی رہتا ہے ۔ پس با وجود مشرک ہونے کے بھی مؤمن کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ د مسئله کفر و اسلام مصنفہ مولوی محمد علی صاحب صفحه ۴ ) ( یہ آیت جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھی ہے کفار مکہ کے حق میں ہے اور سورہ یوسف کے آخری علی رکوع میں وارد ہے۔ اس آیت سے استدلال کر کے مولوی محمد علی صاحب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کی تعریف ایسی وسیع ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والے بھی مومن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ایک جزوی امر ہے جس کے فقدان پر انسان کا فرنہیں ہو جاتا۔ اس طرح اسی صفحہ پر وہ لکھتے ہیں :۔ جو شخص لا اله الا اللہ کا انکار کردے وہ تو اس دائرے سے ہی خارج ہوگیا لیکن جو شما ہوگیا لیکن جوشخص لا اله الا لله کرنے تو ہے مگراس یا کا اقرار کر کے کسی اور حصہ کو چھوڑتا ہے تو وہ دائرہ کے اندر تو ہے مگر اس خاص حصہ کا کافر ہے ۔ اس حوالہ سے یہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ ان کے نزدیک جو شخص لا اله الا الله مان لے وہ مسلمان ہو جاتا ہے کسی اور بات کے انکار سے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار شامل ہے سے میں رسول کریم صلی اللہ وسلم کا اس کے مسلم ہونے میں کچھ شبہ نہیں پڑتا۔ صرف استقدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے ایک حصہ کا کافر ہے