انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 230

انوار العلوم جلد 4 بست ۲۳۰ آئینہ صداقت اسی طرح بعض لوگ میری نسبت بھی کہتےہیں کہ یہ بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا ہے اور کبھی کافر میرا ارادہ تھا کہ کبھی اس پر ایک مضمون لکھوں کہ ان آیات کا کیا مطلب ہے ؟ اور میرے اقوال میں جو اختلاف نظر آتا ہے اس کا کیا باعث ہے ؟ آپ آج کل قرآن کریم کے نوٹ لکھ رہے ہیں۔ آپ اس پیر ایک مضمون کا پر ایک مضمون لکھیں اور مجھے دکھائیں ۔ اس میں ان آیات میں مطابقت کر کے دکھائی جاوے ۔ یہ گفتگو میرے سامنے ہوئی ۔ اسی طرح کچھ دن بعد جبکہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے پھر یہی ذکر شروع کیا اور اپنی نسبت فرمایا ۔ کہ میری نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ کبھی ۔ کہتے ہیں کبھی نا غیر احمدیوں و مان کر دیتا ہے کبھی کافر۔ حالانکہ لوگ میری بات کو نہیں سمجھے ۔ یہ ایک مشکل بات ہے حتی کہ مسلمان ہمارے میاں بھی نہیں سمجھے ۔ ۔ مولوی صاحب کو گو حضرت مولوی محمد علی صاحب کا کفر و اسلام کے متعلق مضمون یا ان کی بستی خلیفہ مسیح نے تعلق آدمی خیال کیا تھا ۔ مگر مولوی صاحب دل میں تعصب و بغض سے پھر سے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور حضرت خلیفہ المسیح نے کہا کچھ تھا انہوں نے لکھنا کچھ اور شروع کر دیا۔ بجائے اس کے کہ ان آیات میں تطبیق پر مضمون لکھتے جو بعض لوگوں کے نزدیک ایک دوسری کے مخالف ہیں۔ کفر و اسلام غیر احمدیان پر ایک مضمون لکھ دیا ۔ ادھر پیغام صلح میں یہ شائع کرا دیا گ کرا دیا گیا کہ حضرت خلیفة المسیح نے فرمایا ہے کہ میاں کفر و اسلام کا مسلہ نہیں سمجھا۔ حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے ۔ مولوی محمد علی صاحب کا حضرت خلیفہ اول کو مضمون سنانے کی حقیقت جب مولوی صاحب نے مضمون لکھ لیا تو نہ معلوم کس خوف سے اس بات کی بے حد کوشش کی کہ علیحدہ وقت میں بنایا جاوے چنانچہ ایک دن رات کے وقت پرہ کر کے مضمون سنانا چاہا مگر عین وقت پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب پہنچ گئے اور بات رہ گئی ۔ دوسری دفعہ جمعہ کی نماز کا ناغہ کر کے مضمون سنایا ۔ حضرت خلیفہ اول کے بڑے بیٹے میاں عبدالحی مرحوم کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا کہ ابھی اسے شائع نہ کریں اور اس قسم کی بات بھی ا پیغام ۳ مارچ ۱۴ و صفحہ ۴۔ میاں نے بھی اس کو نہیں سمجھا ) ، (رسالہ کفروا بوم اسلام صفحہ ۱۲ اسلام صفحہ ۱۲ سطر ۱۱ ۱۲ ۔ میاں نے بھی اس مسئلہ کو نہیں سمجھا (