انوارالعلوم (جلد 6) — Page 229
انوار العلوم جلد 4 ۲۲۹ آئینہ صداقت خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کا خیال جلسہ سالانہ کے چند ہی دن کے بعد حضرت خلیفہ المسیح بیمار ہو گئے اور آپ کی علالت روز روز بروز بڑھنے لگی۔ مگر ان بیماری کے دنوں میں بھی آپ تعلیم کا کام کرتے رہے ۔ مولوی محمد علی صاحب قرآن شریف کے بعض مقامات کے متعلق آپ سے سوال کرتے اور آپ جواب لکھواتے کچھ اور لوگوں کو بھی پڑھاتے ۔ ایک دن اسی طرح پڑھا رہے تھے مسند احمد کا سبق تھا ۔ آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل صاحب کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہو گئی ہیں ۔ جو اس پایہ کی نہیں ہیں ۔ میرا دل چاہتا تھا اصل کتاب کو علیحدہ کرلیا جاتا ۔ مگر افسوس کہ یہ کام میر سے وقت میں نہیں ہو سکا اب شاید میاں کے وقت میں ہو جاوے اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آگئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات پھر دہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہو سکا آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کریں۔ یہ بات وفات سے دوماہ پہلے فرمائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم حضرت خلیفہ امیچ کا منشاء یہی تھا کہ آپ کے بعد خلفاء کا سلسلہ چلے گا اور یہ بھی کہ خدا تعالیٰ اس مقام پر آپ کے بعد مجھے کھڑا کرے گا ۔ مسئلہ کفر و اسلام کے متعلق حضرت چونکہ مسئلہ کفر واسلام کا تذکرہ جماعت میں ہمیشہ زیر بحث رہتا تھا اور مولوی محمد علی صاحب نے کبھی ان مسائل پر تظلم نہیں خلیفه امسیح کا مولوی محمد علی کوارشاد اٹھایا تھا اور ان سال کے تعلی انکو بے علی حیثیت مال تھی۔ مولوی محمد علی صاحب کو قرآن کریم کے بعض مقامات پر نوٹ کرانے کے دوران حضرت خلیفہ المسیح نے مختلف آیات کے متعلق ایک دن فرمایا کہ یہ آیات کفر و اسلام کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہیں اور لوگ بظاہر ان میں اختلاف سمجھتے ہیں : مثلاً إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُهُ وَ النَّصْرَى وَالصَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ٢٣) يا - إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلَاهُ أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينَاه ( النساء : ۱۵۱ (۱۵۲ ،