انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 228

انوار العلوم جلد 4 4۔ ۲۲۸ آئینه صداقت حضرت خلیفہ اول کے متعلق میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ خفیہ طور پر شائع ہونے والے ٹریکٹوں کے پیغام صلح کی غلط بیانی جوابات کے بعد ظاہر طور پر امن ہو گیا تھا۔ لیکن در حقیقت کینہ وبغض کی آگ ان لوگوں کے دلوں میں مل رہی تھی۔ چنانچہ یہ کے دسمبر ۔ کے جلسہ پر اس کا اظہار ہو گیا ۔ اور وہ اس طرح کہ سالانہ جلسہ کی تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح نے ان گمنام طور پر شائع کردہ ٹریکٹوں کا ذکر اپنی تقریر میں کیا اور اس پر اظہار نفرت کیا ۔ اس پر آپ کے مطلب کو بگاڑ کر پیغام صلح نے جھٹ پٹ شائع کر دیا * کہ حضرت خلیفہ المسیح نے انصار اللہ کے جواب میں شائع ہونے والے ٹرکیٹوں پر اظہار نفرت کیا ہے ۔ اور اس سے یہ غرض تھی کہ تا ان گمنام ٹرکیٹوں کا اثر پھر قائم کیا جاوے اور ان کے جوابات کا اثر زائل کیا۔ بات کا اثر زائل کیا جائے ۔ حالانکہ انصار اللہ کے جوابی ٹریکیٹ حضرت خلیفہ المسیح کے حکم کے ماتحت آپ کو دکھانے کے بعد بلکہ آپ کی اصلاح کے بعد شائع ہوئے تھے ۔ چنانچہ جب سب سے د تھے۔ آخری مرتبہ آپ کے سامنے ان کا مسودہ پیش کیا گیا اور اس کی طبع کے متعلق اجازت طلب کی گئی تو آپ نے اس پر یہ تحریر فرمایا " اخلاص سے شائع کرو۔ خاکسار بھی دعا کرے گا۔ اور خود بھی دعا کرتے رہو۔ کہ شریر سمجھے یا کیفر کردار کو پہنچے ۔ نور الدین" یہ تحریر اب تک ہمارے پاس موجود ہے ۔ پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت خلیفة المسیح تو ان ٹریکٹوں کے بااثر ہونے کے لئے دعا کا وعدہ فرماتے ہیں اور اگر اظہار الحق کا صنف باز نہ آئے تو اس کے لئے بد دعا کرتے ہیں مگر پیغام صلح حق کی مخالفت کی وجہ سے ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ انصار اللہ کے ٹرکیٹوں پر حضرت خلیفۃ المسیح کو ناراض لکھتا ہے ۔ اصل سبب یہی تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اظہار الحق کے مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ ہو اور اس کے جواب پر لوگ بدگمان ہو جائیں لیکن اس کا یہ حربہ بھی کارگر نہیں ہوا کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ۱۵ جنوری ۱۹۱۴ء کو ایک تحریر کے ذریعہ شائع فرمایا کہ پچھلے سال بہت سے نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈالوانا چاہا اور اظہار حق نامی اشتہار عام طور جماعت میں تقسیم کیا گیا جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔ مصنف ٹریکٹ کا تو یہ منشاء ہوگا سے جماعت میں تفرقہ ڈال دے لیکن ڈال دے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو پر کہ اس ۔ اس فتنہ سے بچالیا " پیغام نے حضرت خلیفہ اول کے لیکچر کا خلاصہ لکھتے ہوئے لکھا " جس شخص نے اظہار الحق لکھا اور جنہوں نے کھلی چھٹی شائع کی اور جنہوں نے خلافت پر بحث کی اور ٹریکیٹ شائع کئے ان کا حق کیا تھا ۔ پیغام صلح پرچه ، جنوری ته صفحه (۲)