انوارالعلوم (جلد 6) — Page 9
انوار العلوم جلد 4 १ ضرورت مذہب کے جو لوگ اس علم کے ماہر ہیں وہ اپنے آپ کو کسی مذہب کا قائمقام نہیں بتاتے۔ بلکہ پیشگوئی کرنے کو نتیجہ علم بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو اس طرح مشق کرے گا اور اس علم کو جان لے گا وہ خواہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی مذہب کا ہو پیشگوئی کر سکے گا۔ پھر ایسے لوگ جو پیشگوئیاں کرتے ہیں اور جو پوری ہو جاتی ہیں وہ ایسی ہوتی ہیں جن کے حالات پیدا شدہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً ایک طالب علم روز پڑھتا ہے ۔ بہت ہی ہوشیار ہے اس کا واقف اکر کہتا ہے کہ یہ پاس ہو جائیگا اور وہ پاس ہو بھی جائے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ قیاس ہے اور قیاس بھی بعض اوقات درست ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسی بات جس کے حالات پیدا شدہ نہ ہوں۔ بلکہ مخالف ہوں ۔ مثلا ایک ایسا لڑکا جو اسکول نہ جاتا ہو۔ اس کے متعلق کہا جائے کہ پاس ہوگا اور وہ پاس ہو جائے تو یہ پیشگوئی یہ پیشگوئی ہوگی پھر ایک خبر کے دو یا تین یا چار پہلو ہوں مگر اس کا ایک پہلو معین کر دیا جائے اور وہی پورا ہو تو یہ پیشگوئی ہوگی اور بعض دفعہ پیشگوئی میں سینکڑوں پہلو بھی ہو سکتے ہیں اوروہی ہوتو مثلاً سو آدمی دوڑیں اور ایک کے متعلق کہا جائے کہ وہ سب سے آگے نکلے گا اور وہ نکل بھی جائیے تو یہ ایسی پیشگوئی پوری ہو گی جس کے سو پہلو تھے منجم جو پیشگوئی کرتے ہیں اس کے پہلو نہیں ہوتے اور وہ اپنے متعلق بھی نہیں بتا سکتے کہ اس خبر کے پورا ہونے کا ان پر کیا اثمہ ہو گا بسا اوقات وہ زلزلہ کی خبر دیتے ہیں ۔ یا بیماری کی خبر دیتے ہیں۔ مگر خود بھی اسی کے ذریعہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن انبیاء کی پیشگوئی میں یہ بات نہیں ہوتی ۔ وہ مخالف حالات میں ہوتی ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔ اور اس میں ایک شوکت پائی جاتی ہے اور حاکمانہ اقتدار ہوتا ہے ۔ مثال کے لئے حضرت مسیح موعود کی بنگال کے متعلق پیشگوئی دیکھئے تقسیم بنگال کے متعلق جب پارلیمینٹ فیصلہ کر چکی تھی کہ بحال رہیگی اور بنگالی مایوس ہو چکے تھے۔ تو اس وقت حضرت مسیح موعود نے خدا تعات سے علم پا کر خبر دی کہ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی ۔ اس خر کو بنگالیوں نے اس قدر حیرت اور استعجاب سے سنا کہ ایک بنگالی اخبار نے لکھا گورنمنٹ تو بار بار کہ رہی ہے کہ جو کم جاری کیا گیا ہے وہ فیصل شدہ ہے اور اس میں اب کسی قسم کی ترمیم نہیں ہو سکتی لیکن پنجاب سے ایک پاگل کی آواز آتی ہے کہ اس کے متعلق بنگالیوں کی دلجوئی ہوئی مگر با وجود ان فیصلوں کے خدا کا جو منشاء تھا وہ پورا ہوا ۔ اور بنگالیوں کی دلجوئی کے لئے اس حکم میں تذکره صفحه ۵۹۶ - ایڈیشن چهارم