انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 10

انوار العلوم جلد 4 ۱۰ ضرورت مذہب ترمیم کی گئی۔ پھر بعض دفعہ پیشگوئی میں کئی مرکب پہلو ہوتے ہیں ۔ مثلاً حضرت مولوی نور الدین صاحب کا جب ایک لڑکا فوت ہوا تو مخالفوں نے اس پر ہنسی اُڑائی ۔ اس وقت حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر پیشنگوئی کی کہ مولوی صاحب کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جو تیرہ تا اٹھارہ سا سال کی عمر کو پہنچے گا۔ چنانچہ غلام کا لفظ اس کے لئے آیا تھا۔ پھر وہ موٹا ہوگا۔ آنکھیں اس کی بڑی بڑی ہونگی۔ خوش رنگ ہوگا ۔ اس کی ٹانگوں پر پھوڑوں کے نشان ہونگے ۔ اس وقت مولوی صاحب کی عمر قریباً ساٹھ سال کی تھی ۔ اس لئے ایک تو اس میں مولوی صاحب کی عمر کی پیشگوئی تھی۔ دوسرے بچے نہیں بچتے تھے اور تھے۔ خلاف کہ وہ زندہ رہیگا اور اور کمزور ہوتے تھے ۔ اس کے خلاف بتایا گیا کہ وہ زندہ رہیگا اور برخلاف دوسروں کے مضبوط ہو گا پیروں چنانچہ وہ بچہ ہوا۔ اور جس قدر علامات بتائی گئی تھیں۔ وہ ساری اس میں پائی گئیں ۔ پھر آپ نے وہ ۔ زلزلہ کی پیشگوئی کی اور فرمایا کہ میری جماعت کی اس سے ترقی ہو گی ۔ اس زلزلہ سے دھرم سالہ میں کہ میری وہ اس میں پائی تباہی پڑی۔ وہاں ایک احمدی پر جھوٹا مقدمہ تھا جو حضرت مسیح موعود کو دعا کیلئے لکھا کرتا تھا ور آپ اس کیلئے دعا فرماتے تھے جب زلزلہ آیا و مجسٹریٹ کی مدعی سب دب کر کے گرامی کو کوئی نقصان پہنچا کیا یہ خدا کا عرف نہیں تھا اور یہ کہنا کہ فلاں نے بھی چونکہ ترقی کی ہے ۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب کی ترقی ان کی ۔ صداقت کی علامت نہیں غلطی ہے۔ کیونکہ اگر کسی اور نے ترقی کی ہے تو اس کا قبل از ترقی دعویٰ نہ تھا کہ مجھے کامیابی حاصل ہو گی اگر وہ کامیاب نہ ہوتا تو اس کی ذات پر کوئی اثر نہ پڑتا لیکن حضرت مرزا صاحب کا تو قبل از وقت دعویٰ موجود ہے اور اس کے مطابق آپ کو ترقی حاصل ہوئی ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں کی ایسی مثال ہے جیسے چند لڑکے دوڑیں ۔ ان میں سے کسی نے تو آگے نکلنا ہی ہے مگر حضرت مرزا صاحب کی مثال انہی ہے جیسے دوڑ نے وہ والوں میں ایک کے میں سب سے آگے بڑھ جاؤنگا اور اپنے خلاف حالات ہونے کے باوجود آگے بڑھ جائے اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت صاحب کی لاہور کے جلسہ موتسو میں تقریر پڑھی گئی جس کے متعلق قبل از وقت آپ نے اشتہار کے ذریعہ اعلان کر دیا تھا کہ میرا مضمون سب سے بالا ر ہیگا چنانچہ جس قدر مضمون اس جلسہ میں پڑھے گئے ان سے بالا رہا۔ اور مخالفین نے اس بات کا اعتران کیا۔ کیا یہ کسی کے اختیار میں ہے کہ اس طرح اعلان کر سکے ۔ انسان کیسے تجویز کر سکتا ہے کہ سب مذاہب کے وکیل میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکیں گے ۔ ( الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ ه )