انوارالعلوم (جلد 6) — Page 198
انوار العلوم جلد 4 ۱۹۸ آئینه صداقت طلب فرمایا ہمیں گیا تو یہ سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے میرے پہنچتے ہی آپ نے فرمایا کہ کیوں میاں ہمارے صریح حکموں کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی ۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں معاملہ میں میں نے یوں حکم دیا تھا۔ پھر اس کے خلاف آپ نے کیوں کیا ؟ میں نے بتایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں۔ میں نے ان کو صاف طور پر کہ دیا تھا کہ لئے اس نہیں دیا تھا کہ اس امر میں حضرت خلیفہ المسیح کی مرضی نہیں ۔ اس لئے اس طرح نہیں کرنا چاہئے اور آپ کی تحریر سے اجازت نہیں بلکہ ناراضگی ظاہر ہوتی ہے ۔ آپ نے اس پر ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو تم اس کو بچہ کہا کرتے ہو یہ بچہ میرے خط کو سمجھ گیا اور تم لوگ اس کو نہ سمجھ سکے ۔ اور بہت کچھ تنبیہ کی کہ اطاعت میں ہی برکت ہے اپنے رویہ کو بدلو ۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم ہو جاؤ گے۔ دوبارہ معانی اس وقت تو یہ لوگ اسوس کا اظہار کرتے رہے مگر اس دن سے برابر کشش شرع ہو گئی کہ لوگوں کو حضرت خلیہ و حضرت خلیفه امسیح پر بدین کیا جاوے کبھی کوئی الزام دیا جاتا کبھی کوئی اور علی الاعلان لاہور میں یہ ذکر اذکار رہتے کہ اب جس طرح ہو ان کو خلافت سے علیحدہ کر دیا جاوے ان واقعات کی اطلاع حضرت خلیفہ المسیح کو ہوئی۔ عید قریب تھی آپ نے عید پر ان لوگوں کو لاہور سے بلوایا (خواجہ صاحب اس واقعہ میں شامل نہ تھے وہ اس وقت کشمیر میں تھے اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔ وہ اب خفیہ تدبیروں کو پسند کرتے تھے اور ارادہ کیا کہ عید کے خطبہ میں ان لوگوں کو جماعت سے نکالنے کا اعلان کر دیا جاوے۔ چونکہ ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری کوششیں بے سود ہیں اور لوگ ہماری باتوں کو نہیں سنتے آخر دوبارہ معافی مانگی۔ اور ان میں سے بعض سے دوبارہ بیعت لی گئی اور اس طرح یہ نیا فتنہ ملا ۔ مگر اس واقعہ سے بھی ان کی اصلاح نہ : انہ ہوئی۔ یہ لوگ اپنی کوششوں میں زیادہ ہوشیار ہو گئے ۔ ۔ خواجہ صاحب کی شہرت حاصل کرنا اب خواجہ صاحب نے پبلک لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا کہ اس ذریعہ سے رسوخ پیدا کیا جاوے خود لیکچر دیتے خود ہی اپنے ہاتھ سے اپنے لیکچر کی تعریف لکھ کر سلسلہ کے اخبارات کو بھیج دیتے اور نیچے یکے از حاضرین لکھ دیتے۔ اور اس طرح شہرت پیدا کرتے ۔ حضرت مسیح موعود نے جو خزانہ نہیں دیا ہے۔ وہ ایسا نہیں کہ لوگ اس کا ایک نکتہ بھی سنیں اور بے تاب نہ ہو جا دیں۔ کچھ لسانی بھی خواجہ صاحب میں تھی۔ ادھر اپنے ہی ہاتھ سے لکھ کر یا بعض دفعہ کسی دوست سے لکھوا کر اپنی تعریفوں کے شائع کرنے کا