انوارالعلوم (جلد 6) — Page 199
انوار العلوم جلد 4 ۱۹۹ آئینه صداقت سلسلہ شروع کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خواجہ صاحب کی مانگ شروع ہوئی اور لیکچروں کا سلسلہ وسیع ہوا ۔ شروع ہوئی کا ہوا۔ جہاں جہاں جاتے جماعت کو اشارتاً کنایتاً موقع ہو تو وضاحتاً خلافت اور انجمن کے معالمہ کے متعلق بھی تلقین کرتے اور بوجہ اس شہرت کے جو بحیثیت لیکچرار کے ان کو حاصل ہو گئی تھی کچھ اثر بھی ہو جاتا ۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے قریب ہونا ترا جب انسان ایک فعلا قدم اٹھاتا ، ہے تو دوسرا خود بخود اُٹھتا ہے ۔ لیکچروں کے سلسلہ کی وسعت کے ساتھ خواجہ صاحب کیے تعلقات غیر احمدیوں سے بھی زیادہ ہونے لگے ۔ وہ پہلے ہی سے سلسلہ کی حقیقت سے نا واقف تھے اب جو یہ مشکلات پیش آنے لگیں کہ بعض دفعہ جلسہ کے معاً بعد یا پہلے نماز کا وقت آجاتا اور غیر احمدی الگ نماز پڑھتے اور احمدی الگ ۔ اور لوگ پوچھتے کہ یہ تفریق کیوں ہے ؟ تو خواجہ صاحب کو ایک طرف اپنی ہر دلعزیزی کے جانے کا خوف ہوتا دوسری طرف احمدیوں کے مخالفت کا ڈر۔ اس کشمکش میں وہ کئی طریق اختیار کرتے کبھی کہتے کہ یہ نماز کی مخالفت تو عام احمدیوں کے لئے ہے کہ دوسروں سے مل کر متاثر نہ ہوں ۔ میرے جیسے پختہ ایمان آدمی کے لئے نہیں میں تو آپ لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوں۔ کہیں جواب دیتے کہ ہم تو ایک امام کے تابع ہیں آپ لوگ ان سے دریافت کریں، کہیں کہ دیتے کہ اگر آپ لوگ کفر کا فتویٰ واپس لے لیں تو ہم نماز چھے پڑھنے کے لئے تیار ہیں اس قسم کے کئی کرتے۔ درحقیقت ابدالی کے امداد کے لئے تیار ہیں ۔ غرض اسی قسم کے کئی مذرات کرتے ۔ در حقیقت عبد الحکیم کے ارتداد کے وقت سے ہی ان کے خیالات خراب ہو چکے تھے ۔ مگر اب ان کے نشو و نما پانے کا وقت آگیا تھا ۔ خواجہ صاحب صاحب شہرت و عزت کے طالب تھے۔ اور یہ روکیں ان کی شہرت و عزت کے راستہ میں حائل تھیں۔ اور جو کچھ بھی ہو۔ ان روکوں کے دور کرنے کا خواجہ صاحب نے تہیہ کر لیا تھا سیب سے پہلے یہ تدبیر اختیار کی گئی کہ پیسہ اخبار اوبر وطن اخبار میں مرزا یعقوب بیگ سے ایک مضمون دلوایا گیا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت ایک عارضی حکم ہے۔ اور اس طرح اس امر کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی کہ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی جائے۔ اس تحریر پر جماعت کے بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اب بات حد سے آگے نکل رہی ہے ابھی وہ اسی فکر میں تھے کہ احمدیوں کی ان حرکات سے دلیر ہو کر غیر احمدیوں نے بھی حملے کرنے شروع کر دیئے اور احمدیوں کو تنگ ظرف اور وسعت حوصلہ سے کام نہ لینے والا قرار دینے لگے ۔