انوارالعلوم (جلد 6) — Page 197
انوار العلوم جلد 4 194 آئینه صداقت ایک مکان کی فروختگی کا معاملہ میم مالی حکیم فضل الدین صاحب ایک بہت مخلص احمدی تھے اور احمدی تھے اور ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی جائیداد کی وصیت بھی اشاعت اسلام کی تھی ۔ اس جائیداد میں ایک مکان بھی تھا۔ انجمن نے اس مکان کو فروخت کرنا چاہا۔ یہ مکان حکیم صاحب نے جس شخص سے خریدا تھا۔ اس نے حضرت خلیفہ المسیح سے درخواست کی کہ لہ ہمارے پاس اسے کسی قدر رعایت سے فروخت کر دیا جائے کیونکہ ہم سے ہی خریدا گا کسی سے فروخت کر دیا کیونکہ ہم ہی خریدا گیا تھ اور سے ہی بعض مشکلات کی وجہ سے بہت سنتا ہم نے دے دیا تھا ۔ پس اب کچھ رعایت سے یہ مکان ہم ہی کو دے دیا جاوے۔ حضرت خلیفہ المسیح نے اس بات کو مان لیا ۔ اور انجمن کو لکھا کہ اس مکان کو رعایت سے اس کے پاس فروخت کر دو۔ ان لوگوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ خیال کیا کہ جماعت کو جب معلوم ہوگا کہ جماعت کی ایک مملوکہ شئے کو حضرت خلیفہ امسیح سستے داموں دلواتے ہیں۔ تو سب لوگ ہم سے مل جاویں گے۔ اور اس امر سے انکار کر دیا۔ حضرت خلیفہ المسیح سے بہت کچھ گفتگو اور بحث کی اور کہا کہ یہ لوگ بھی نیلام میں خرید لیں۔ انجمن کیوں نقصان اُٹھائے۔ حضرت خلیفہ المسیح نے بہتیرا ان کو سمجھایا کہ ان لوگوں نے مشکلات کے وقت بہت ہی سستے داموں پر یہ مکان دے دیا تھا ۔ پس ان کا حق ہے کہ ان سے کچھ رعایت کی جاوے مگر انہوں نے تسلیم نہ کیا ۔ آخر آپ نے ناراض ہو کر لکھ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے ۔ آپ جس طرح چاہیں کریں۔ میں دخل نہیں دیتا ۔ جب انجمن کا اجلاس ہوا۔ یہیں بھی موجود تھا ۔ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب - حال سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور نے میرے سامنے اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا کہ ہم لوگ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں اور ٹرسٹی ہیں۔ اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا جب حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں کہ اس شخص سے کچھ رعایت کی جاوے تو ہمیں چاہئے کہ کچھ رعایت کریں ۔ ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے اجازت دے دی ہے۔ جب خطہ سنایا گیا تو مجھے اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور میں نے کہا یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر اس لئے میری رائے تو وہی ہے ۔ اس پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک لمبی تقریر کی جس میں خشیت اللہ اور تقوی اللہ کی مجھے تاکید کرتے رہے میں نے ان کو بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں۔ میرے نزدیک یہی رائے درست ہے چونکہ ان لوگوں کی کثرت رائے تھی۔ بلکہ اس وقت میں اکیلا تھا ۔ انہوں نے اپنے منشاء کے مطابق ریزولیوشن پاس کر دیا حضرت خلیفہ المسیح کو اطلاع ہوئی ۔ آپ نے ان کو بلایا اور دریافت کیا ۔ انہوں نے جواب دیا کہ سب کے مشورہ سے یہ کام ہوا ہے اور میرا نام لیا کہ وہ بھی وہاں موجود تھے۔ حضرت خلیفہ ربیع الاول نے مجھے