انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 186

انوار العلوم جلد 4 آئینه صداقت بیعت کے باوجود دل نے بیعت کا اقرار نہیں کیا۔ اور اپنے ہم خیالوں اور دوستوں کی مجلس میں اس قسم کے تذکر سے شروع کر دیئے گئے جن میں خلافت کا انکار ہوتا تھا اور اس طرح ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی بنائی خواجہ کمال الدین سب سے بہتر شکار تھا جو مولوی محمد علی صاحب کو ملا کیونکہ وہ خود اس فکر میں تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کو اپنا ہم خیال بنائیں اور اس کی سب سے بہتر صورت یہی تھی کہ وہ خود مولوی محمد علی صاحب کے خاص خیالات میں ان کے شریک ہو جاویں، چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریر کو سن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے میرے جواب کو سن کر خواجہ صاحب بات کا رُخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہو گئی ۔ ان ہی ایام میں ۔ مولوی محمد علی صاحب کو بعض باتوں پر والدہ صاحبہ حضرت اُم المؤمنین سے بعض شکایات پیدا ہوئیں وہ بیچی تھیں یا جھوٹی مگر مولوی صاحب کے دل میں وہ گھر کر گئیں ۔ اور آپ نے ان شکایتوں کا اشارة رساله ریویو آف ریلیجنز بر آف ریلیجنز میں بھی ذکر کر دیا ۔ چونکہ خلافت کا مجھے مزید دیکھا گیا اس لئے اس ذاتی بغض کی وجہ سے یہ خیال کر لیا گیا کہ یہ خلافت کا اس لئے قائل ہے کہ خود خلیفہ بنا چاہتا ہے پس خلافت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود کے خاندان خصوصاً میری مخالفت کو بھی ایک مدعائے خاص قرار دیا گیا اور ہمیشہ اس کے لئے ایسی تدبیریں ہوتی رہیں جن کے ذکر کرنے کی نہ یہاں گنجائش ہے نہ فائدہ ۔ اس اسی عرصہ میں جلسہ سالانہ کے دن آگئے جس کے لئے مولوی محمد علی صاحب کے احباب نے خاص طور پر مضامین تیار کئے - اور یکے بعد دیگرے انہوں نے جماعت کو یہ سبق پڑھانا شروع کیا کہ خدا کے مأمور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے جس کے یہ لوگ ٹرسٹی ہیں ۔ اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے۔ مگر اس سبق کو اس قدر لوگوں کے مومنوں سے اور اس قدر مرتبہ دہرایا گیا کہ بعض لوگ اصل منشاء کو پاگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اصل غرض حضرت خلیفہ اول کو خلافت سے جواب دینا ہے اور اپنی خلافت کا قائم کرنا۔ صدر انجمن احمدیہ کے چودہ ممبروں سے قریباً آٹھ مولوی محمد علی صاحب کے خاص دوست تھے اور بعض اندھا دھند بعض حسن ظنی سے ان کی ہر ایک