انوارالعلوم (جلد 6) — Page 185
انوارالعلوم جلد 4 ۱۸۵ آئینہ صداقت اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں " گو حضرت مسیح موعود کی اس فوری اور سخت تنبیہ کا یہ نتیجہ تو گلا کہ جماعت میں سے کسی اور شخص کو اس وقت عبدالحکیم کے خیالات کی تائید اور تصدیق کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ندر اندر ہی لوگوں سادات تھے کے کے دل میں یہ خیالات گھر کر چکے تھے اور ان لوگوں کے سردار خواجہ واقعات بتاتے ہیں کہ خواجہ صاحب کا ایمان اندر سے کھوکھلا ہو چکا تھا ۔ بعد کی ان کی تحریرات سے ظاہر ہے کہ وہ ان خیالات کا شکار ہو گئے تھے اور اب سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ یہی عقائد پھیلا رہے ہیں۔ خواجہ صاحب کا مولوی محمد علی صاحب کو ااااااااااااا اپنا ہم خیال بنانا جہاں مولوی تک محمد میرا علی صاحب خیال شروع ہے میں ان عقائد کی تائید میں نہ تھے ۔ مگر خواجہ صاحب نے ان کو ایک کارآمد ہتھیار دیکھ کر برابر اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی۔ اور آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود بر زبان طعن کھولنے کی جرأت دلا دی۔ گو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود کی وفات تک ان کے ایمان میں زیادہ تزلزل واقعہ نہیں ہوا تھا۔ مگر آپ کی وفات کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے بہت بڑا تزلزل مولوی صاحب کے خیالات میں آنا شروع ہوا ۔ اور اس کا باعث بعض بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوئیں ۔ مولوی محمد علی صاحب کی طبیعت شروع سے ہی نہایت غصہ والی رہی ہے اور وہ کبھی اپنے خصم کی بات سن کر برداشت کرنے کے قابل ثابت نہیں ہوئے اور ایک دفعہ جب ان کے دل میں غصہ پیدا ہو جائے تو اس کا نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اپنے مخالف کو ہر طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول سے انجمن کے بعض کاموں میں مولوی محمد علی صاحب کو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں رنجش پیدا ہو جاتی تھی۔ خلافت اولی میں مولوی محمد علی صاحب کے خیالات اور کوششیں جب حضرت مسیح موعود کی وفات پر آپ کو خلیفہ تجویز کیا گیا ۔ تو مولوی صاحب کو بہت برا معلوم ہوا اور آپ نے انکار بھی کیا اور پیش کیا کہ خلافت کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے۔ مگر جماعت کی عام رائے کو دیکھ کر اور اس وقت کی بے سرو سامانی کو دیکھ کر دب گئے اور بیعت کرلی ۔ بلکہ اس اعلان پر بھی دستخط کر دیئے جس میں جات کو اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب الوصیت کے مطابق خلیفہ مقرر ہوئے ہیں۔ مگر ظاہری