انوارالعلوم (جلد 6) — Page 187
انوار العلوم جلد 4 ۱۸۷ آئینه صداقت صدرا بات پر امنا د صدقنا کہنے کے عادی تھے۔ صدر انجمن احمدیہ کی خلافت سے مراد در حقیقت مولوی محمد علی صاحب کی خلافت تھی ۔ جو اس وقت بوجہ ایک منصوبہ کے اس کے نظم و نسق کے واحد مختار تھے بعض ضروری کاموں کی وجہ سے مجھے اس سال جلسہ سالانہ کے تمام لیکچروں میں شامل ہونے کا موقع نہ ملا اور جن میں شامل ہونے کا موقع ملا بھی۔ ان کے سنتے وقت میری توجہ اس بات کی طرف نہیں پھری ۔ مگر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے بعض لوگوں نے ان کی تدبیر کو معلوم کر لیا تھا۔ اور اب ان کے دوستوں کے حلقوں میں اس امر پر گفتگو شروع ہوگئی تھی کہ خلیفہ کا کیا کام ہے ؟ اصل حاکم جماعت کا کون ہے ؟ ر انجمن احمد یہ یا حضرت خلیفۃ البیع الاول مگر خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے اب بھی اس کا کچھ علم نہ تھا ۔ اب جماعت میں دو کیمپ ہو گئے تھے ۔ ایک اس کوشش میں تھا کہ لوگوں کو یقین دلایا جاوے کہ حضرت مسیح موعود کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور دوسرا اس پر معترض تھا اور بیعت کے اقرار پر قائم تھا۔ مگر حضرت خلیفہ ایسی الاول کو ان بتوں کا کچھ علم نہ الاول کو ان بحثوں کا کچھ علم نہ تھا۔ اور میں بھی ان سے بالکل بے خبر تھا حتی کہ حضرت خلیفہ البیع الاول کے پاس میر محمد اسحق صاحب نے کچھ سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ ان سوالات کو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیج دیا کہ وہ ان کا جواب دیں ۔ مولوی محمد علی صاحب نے جو کچھ جواب دیا وہ حضرت خلیفہ اول کو حیرت میں ڈالنے والا تھا۔ کیونکہ اس میں خلیفہ کی حیثیت کو الیسار گرا کر دکھایا گیا تھا کہ سوائے بیعت لینے کے اس کا کوئی تعلق جماعت سے باقی نہ رہتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے اس پر حکم دیا کہ ان سوالوں کی بہت سی نقلیں کر کے جماعت میں تقسیم کی جادیں ۔ اور لوگوں سے ان کے جواب طلب کئے جاویں اور ایک خاص تاریخ (۳۱) جنوری ۱۹۰۹ء مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے قائمقام جمع ہو جاویں تا کہ سب سے مشورہ لیا جائے اس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کاعلم نہ تھا تی کہ مجھے ایک رویا ہوئی جسکا مضمون حسب بل ہے۔ حص فتنہ میری نے ہ کی اطلاع بذریعہ رویا نہیں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔ اس کے دوھتے ہیں۔ ایک حقہ تو مکمل ہے اور دوسرا نا مکمل ۔ نا مکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے ۔ کڑیاں رکھی جاچکی ہیں مگر او پر تختیاں نہیں رکھی گئیں ۔ اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے ۔ ان کڑیوں پر کچھ بھو سا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحق صاحب میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اور ایک اور لڑکا جو حضرت خلیفہ البیع الاول کا رشتہ دار تھا اور جس کا نام نثار احمد تھا اور جواب فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے کھڑے ہیں۔ میر محمد اسحق صاحب کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے ۔ اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھو سا جلا یا