انوارالعلوم (جلد 6) — Page 178
انوار العلوم جلد 4 ۱۷۸ آئینه صداقت تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ وفد کے ممبروں میں سے کوئی ایسا موزوں آدمی نہیں ہے جو کہ اس موقع پر بول سکے اس لئے اجازت دی جائے کہ سید مدثر شاہ ان کی طرف سے بولیں انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کے لیکچرار کو تقریر کے لئے اس سے زیادہ وقت دیا جائے جو انہوں نے اپنے جلسے میں ہمارے نمائندے کو دیا تھا ۔ میں نے ان کی دونوں درخواستوں کو منظور کر لیا۔ چنانچه حافظ روشن علی صاحب کی تقریر کے بعد جس کا عنوان " نبوت مسیح موعود " تھا اجازت دی گئی کہ فریق مخالف کے نمائندہ ایک گھنٹہ تک حاضرین جلسہ کے سامنے جنکی تعداد قریب چھ ہزار احمدیوں کی تھی اور جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ چنانچہ میر مدثر شاہ صاحب نے ایک گھنٹہ تک تقریر کی جب وہ اپنی تقریر کو ختم کر چکے تو ان کے دلائل کو میر محمد اسحق صاحب نے رد کیا ۔ اس واقعہ نے ہمیشہ کے لئے فریق مقابل کی اس شکایت کو دور کر دیا کہ احمدیوں کو ان کے دلائل سننے سے روکا جاتا ہے۔ الحمد للہ کہ فریق مقابل کے خیالات سننے سے احمدیوں کا بان اپنے عقائد کے متعلق اور بھی مضبوط ہو گیا ۔ اور ان پر فریق مقابل کے خیالات کی کمزوریاں اور غلطیاں کھل گئیں میرمحمد التقی صاحب کی تقریر سے اس قرآنی صداقت کی ایک اور مثال قائم ہوگئی کہ سچ کے آگے جھوٹ نہیں ٹھہر سکتا ۔ اب میں کیسے بعد دیگرے تمام ان باتوں کا جو مولوی محمد علی صاحب کی کتاب اختلافات سلسلہ میں قابل رد تھیں رد کر چکا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو شخص بھی ان دلائل کو منصفانہ نظر سے دیکھے گا اسے پورا پورا یقین ہو جائے گا کہ مولوی محمد علی صاحب اپنی کتاب " دی سپلٹ میں متواتر غلط بیانیوں سے کام لیتے چلے گئے۔ اور اختلافات سلسلہ کو بیان کرتے وقت انہوں نے کم سے کم چو میں جگہوں پر جان بوجھ کر اور خدا کے خوف اور قہر سے الگ ہو کر خلاف بیانی سے کام لیا ہے ۔ وہ لوگ جو دور دراز ممالک میں رہتے ہیں اور سلسلہ کے مرکز سے پیوستگی کے ان کے پاس سامان نہیں ہیں اور اس کے حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ اس طرح واقعات کی حقیقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس طرح کہ وہ لوگ جنہوں نے کہ ان واقعات کو بچشم خود دیکھا ہے ۔ تاہم وہ زبردست شہادتیں جو اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں وہ اُمید ہے کہ ان کو بھی آسانی سے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے قابل کر دیں گی اور اس مقولہ کے مطابق کہ دیگ میں سے ایک چاول ہی کافی ہوتا ہے۔ وہ پیچدار اور صداقت سے دور باتیں جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں گی کہ وہ شخص جس نے ان کو پبلک کے سامنے پیش کرنے کی دلیری کی ہے کسی دل و دماغ کا انسان ہے۔ جن باتوں کے متعلق میں سے