انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 177

انوار العلوم جلد 4 166 آئینه صداقت ہے کہ یہ ایک بہانہ ہے جو ان لوگوں نے ہم سے جدائی کے لئے بنایا ہے ۔ اگر واقع میں دیکھا جائے تو میرے بہا نعین ان سے بہت زیادہ تعلق رکھتے رہ تعلق رکھتے ہیں۔ بہ نسبت اس کے جوان کے ہمراہی مبائعین سے رکھتے ہیں۔ ہر سال ان کے جلسہ پر ہمارے کچھ نہ کچھ آدمی جاتے ہیں۔ مگر ان کے آدمی سوائے اس سال کے کہ خاص طور پر مدعو کئے جانے پر چند آدمی آئے تھے کبھی نہیں آئے بلکہ جب کوئی ہمارا آدمی چلا جاوے تو اس کی سخت ہتک کی جاتی ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک دوست میاں عبد العزیز صاحب او در سیر کا خطہ چند دن ہی ہوئے مجھے ملا ہے کہ میں ان لوگوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے پاس اتر نے بھی نہیں دیا ۔ غرض ان لوگوں کی سختی میرے احباب سے اس قدر بڑھی ہوئی ہے اور پھر دھوکا ر ہی اس قدر ترقی کر گئی ہوئی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جا کہ ہمارے احباب کی عزتیں معرض خطر میں ہوتی ہیں اور سوائے ایسے لوگوں کے کہ جن سے انہیں امید ہو کہ شاید ہم میں مل جاویں یا صاحب ثروت لوگ ہوں کہ ان سے کچھ فائدہ اُٹھانا چاہیں دوسروں کو یہ لوگ منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتے ۔ کتابوں کے متعلق بھی اگر دیکھا جاوے تو میری جماعت میں ایسے بہت لوگ ملیں گے جنہوں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں یہ نسبت مولوی صاحب کے ایسے ہم خیال لوگوں کے جنہوں نے میری کتب پڑھی ہیں ۔ مولوی محمد علی صاحب کے اعتراض کا ایک اور طریق سے دفعیہ آخر میں میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت کہ میں یہ حصہ مضمون لکھ رہا ہوں ۔ مولوی صاحب کا یہ اعتراض کہ ان کے مرید اس لئے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ یہ ان کو ہماری باتیں سننے نہیں دیتے۔ ایک اور طرح بھی دور کر دیا گیا ہے اور بالکل بے حقیقت اور جھوٹا ہو گیا ہے اور وہ اس طرح کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں اس جلسہ پر یعنی شانہ کے جلسہ سالانہ پر بوجہ میری بیماری کے دسمبر شا اللہ سے ملتوی کر کے مارچ 1919 کو کیا گیا تھا۔ میری طرف سے خاص طور پر غیر مبالعین کو بلوایا گیا تھا۔ چنانچہ تمہیں کے قریب ان کے چیدہ آدمی آئے جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ ان کو بولنے کا وقت دیا جائے چونکہ یہ لوگ مدعو تھے یہ خیال کر کے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں میں نے ان کی درخواست کو قبول کر لیا اور انہیں کہا کہ وہ اپنے میں سے ایک آدمی مقرر کریں جو ان کے خیالات کو حاضرین جلسہ کے سامنے بیان کرے اور اتنے وقت کے لئے بول سکے جس قدر وقت کہ انہوں نے ہمارے آدمی کو اپنے جلسے میں بولنے کے لئے دیا