انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 150

コン انوار العلوم جلد 4 ۱۵۰ آئینه صداقت کے گا کہ آیا میرے مضمون کے اصل مطلب کے خلاف کوئی اور معنی کرنے ممکن بھی ہیں یا نہیں۔ اس مضمون کا ہیڈنگ تھی۔ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے۔ اور یہ ہیڈنگ ہی اس بات کی کافی شہادت ہے کہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتا ۔ بلکہ یہ کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے مضمون کے شروع میں ایک تمہید ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تمام نبیوں اور ان کے سلسلوں کی آپس میں مشابہت ہوتی ہے ۔ اسی طرح نبیوں کے مخالف بھی آپس میں مشابہ ہوتے ہیں ۔ مگر ہمارے حضرت مسیح موعود کو چونکہ حضرت مسیح سے مماثلت حاصل تھی۔ اس لئے آپ کا اور آپ کی جماعت کا حال ان سے اور ان کی جماعت سے بہت ہی ملتا ہے۔ مگر چونکہ آپ بروز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں۔ اس لئے آپ کی جماعت کی نسبت یقین ہے که زیاده خطرناک فتنوں سے محفوظ رہے گی ۔ اس کے بعد بتایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد غیر قوموں نے مسیحیوں سے صلح کر کے ان کے دین کو برباد کر دیا۔ ایسا ہی آج کل بھی ہو رہا ہے ۔ غیر احمدی ہم کو اپنے اندر ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے جب دیکھا که مسیح موعود کی جماعت کو وہ مقابلہ سے شکست نہیں دے سکا۔ تو اس نے لامذہب لوگوں کو ہمارے پیچھے لگایا ہے تا صلح کے پردہ میں ہمارے سلسلہ کو نقصان پہنچائے اور یہ سوال اُٹھا یا گیا ہے کہ ہمارا آپس کا اختلاف ہی کیا ہے کہ اس قدر جدائی ہو۔ اور ایک دوسرے کو کافر کہنے سے کیا فائدہ جنہوں نے مرزا صاحب کو کافر کہا انہوں نے غلطی کی ۔ اب احمدیوں کو بھی چاہئے ۔ اپنے غصہ کو جانے دیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم میں سے بعض کو سمجھ دی اور انہوں نے مامورین کی قدر کو سمجھ لیا اور اس بات سے انکار کر دیا کہ اس شخص کے انکار کو معمولی انکار قرار دے دیں جس کے لئے آسمان و زمین نے گواہی دی ۔ جو سب نبیوں کا موعود تھا۔ جس کی خاطر اللہ تعالی مسلمان کہلانے والے بڑے بڑے علماء و فضلاء اور گدی نشینوں کو ذلت و ہلاکت کی مار مارتا رہا ۔ اور جسے الہام کیا کہ تجھ سے گھر کرنے والوں پر قیامت تک میں تیرے متبعین کو فضیلت دوں گا۔ پھر اصل مضمون کے متعلق لکھا ہے کہ :۔ جبکہ ہم حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ کا نبی مانتے ہیں تو آپ کے منکروں کو مسلمان کیونکر کہ سکتے ہیں ۔ بیشک ہم ان کو کافر باللہ یعنی دہر یہ نہیں کہتے ۔ مگر ان کے کافر بالمأمور ہونے میں کیا شبہ ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو راست باز مانتے ہیں۔ پھر ہمیں کیوں کافر کہا جائے ۔ وہ سوچیں کہ کیا راست باز جھوٹ بھی بولتے ہیں ۔ اگر مرزا صاحب راست باز تھے تو پھر ان کے دعوؤں کے قبول