انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 151

انوار العلوم جلد 1 ۱۵۱ آئینہ صداقت کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود کے حوالجات سے میں نے ثابت کیا ہے کہ آپ کے نزدیک آپ کے منکر کافر ہیں۔ چنانچہ ان حوالوں میں سے بعض کے یہ فقرات ہیں عبد الحکیم پٹیالوی مرتد کو آپ تحریر فرماتے ہیں ۔ بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے ۔ اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلاء ہے ۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تریہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جاوے اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں ۔ اس کے بعد میں نے اپنے الفاظ میں اس عبارت کا یہ خلاصہ نکالا ہے ۔ اس الزام میں وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے تکفیر میں جدوجہد کی ہے ۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا ۔ وہ مسلمان نہیں ہے " پھر آگے دعوت پہنچنے کی تشریح حضرت مسیح موعود کی ہی عبارات سے کی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی دعوت کو سب دنیا میں پہنچا دیا ہے ۔ اس لئے سب دنیا کو دعوت پہنچ گئی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک شخص کو فرداً فرداً کہ دیا جاوے “ اس کے بعد حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کو کافر تونہیں کہتے مگر آپ پر ایمان بھی نہیں لاتے۔ وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ شامل ہیں۔ جو آپ کو کافر کہتے ہیں حتی کہ جو شخص صرف مزید تسلی کے لئے کچھ مدت انتظار کرتا ہے اور بیعت نہیں کرتا ۔ وہ بھی منگروں کے ساتھ ہی سمجھا جائے گا۔ اور پھر میرے اپنے الفاظ میں ان حوالہ جات کا یہ خلاصہ نکالا گیا ہے کہ ایپس نہ صرف وہ شخص جو آپ کو کافر کہتا ہے یا جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا ہے مگر آپ کے دعوی کو نہیں مانتا۔ کافر قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے" اس کے بعد اسی مضمون کے متعلق کچھ تائیدی حوالہ جات نقل کئے ہیں۔ اور اس صلح کی تحریک کی کمزوری دکھاتے ہوئے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ممانعت کا فتوی درج کیا ہے۔ اتھہ دو رویہ روحانی خزائن جلده انه ماشی) آخر میں قرآن کریم کی ایک آیت سے استدلال کیا ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتے۔ خواہ آپ کو راست باز ہی منہ سے کہ منہ سے کیوں نہ کہتے ہوں وہ پکے کافر ہیں۔ ہیں۔ یہ ہے خلاصہ میرے اس مضمون کا جسے حضرت خلیفة المسیح الاول نے دو دفعہ پڑھا اور اپنی قلم سے اس میں بعض جگہ پر اصلاح کی۔ اور لکھا کہ اس کے مضمون سے مجھے ہرگز اختلاف نہیں ۔ اب اسے پڑھ کر خصوصاً ان فقرات کی موجودگی میں جو میں اوپر کھ آیا ہوں ۔ کیا کوئی عقلمند انسان یہ گمان بھی کر سکتا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح نے اس کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ ۶۴