انوارالعلوم (جلد 6) — Page 149
انوار العلوم جلد 4 ۱۳۹ آئینه صداقت مضمون کفر و اسلام پر حضرت خلیفہ امسیح الاول اس جواب سے ظاہر تھا اور یہی واقعہ تھا کہ کی اصلاح اور چھاپنے کی دوبارہ اجازت جوجو جو جنگیں حضور کے نزدیک سخت تھیں ان پر آپ نے نشان کر دیا تھا۔ اور یہ بھی پر نے نشان کر کہ بعض کمزور احمدیوں کی نسبت جو الفاظ استعمال کئے گئے تھے ۔ صرف وہ آپ کو نا پسند تھے کیونکہ جو یر آیت آپ نے لکھی ہے۔ وہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے متبعین کی نسبت ہے۔ نہ کہ نہ ماننے والوں کی نسبت اور ایسے فقرات آپ نے کاٹ دیئے تھے ۔ اور پھر ساتھ اس کے چھاپنے کی دوبارہ اجازت بھی دی۔ اس پر میں نے مضمون چھاپنے کے لئے دے دیا ۔ حضرت خلیفہ المسیح نے یہ بھی فرمایا کہ پروف بھی مجھے دکھا لینا۔ چنانچہ رسالہ تشمیہ کے مینجر صاحب کو کر دیا گیا کہ پروف دکھائے بغیر رسالہ طبع نہ ہو مجھے کچھ کام تھا۔ میں امرتسر کچھ دنوں کے لئے چلا گیا۔ پیچھے یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت خلیفہ امیج کو تریاق القلوب کا ایک حوالہ دکھایا گیا تھا۔ جس سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے منکروں کو کافر نہیں کہا۔ اس پر پھر میں نے اس حوالہ کی تشریح جو خود حضرت مسیح موعود نے کی ہے۔ آپ کو دکھائی ۔ اور پھر یہ سوال پیش کیا کہ اگر آپ کو ناپسند ہے تو میں اس مضمون کی اشاعت کو روک دوں اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اسی نے مجھے فرمایا کہ میں منافق نہیں ہوں ۔ آپ اس مضمون کو شائع کریں ۔ یعنی میں نے اجازت منافقت سے نہیں دی۔ میری غرض بار بار پیش کرنے کی یہ تھی کہ کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے بعد مضمون کے پروف بھی آپ کو دکھائے گئے اور چونکہ پروف کے دیکھنے میں حضرت خلیفہ ایسی کو کچھ دیر لگی۔ ہمارے احباب نے پھر مشہور کر دیا کہ حضرت خلیفہ امیج نے پتھر پر سے کٹوا دیئے ہیں اور مضمون کی اشاعت سے روک دیا ہے ۔ مگر آخر پروف بھی حضرت خلیفہ ایسیح نے دیکھ لئے اور تب جاکر وہ مضمون شائع کیا گیا ۔ ان تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مضمون سرسری طور پر شائع نہیں ہوا۔ بلکہ دو دفعہ خود حضرت خلیفہ المسیح نے شروع سے آخر تک پڑھا۔ متعدد جگہ خود اصلاح فرمائی آپ کا اصلاح کردہ مسودہ میرے پاس اب تک پڑا ہے۔ جو میرے بیان پر شاہد ہے، پھر بار بار آپ کے سامنے اس کی اشاعت کا سوال آیا۔ پس یہ مضمون گوئیں نے ہی تحریر کیا ہے ۔ مگر اس لحاظ سے کہ حضرت خلیفة المسیح نے اسے بار بار دیکھا ہے اور اس کی اصلاح اپنی قلم سے فرمائی ہے۔ آپ کا مضمون ہی کہا جا سکتا ہے۔ بعض مضمون کفر و اسلام کا خلاصہ اب میں اپنے اس مضمون کا خاصہ اس جگ دیتا ہوں اور ہیں خاص خاص فقرات بھی نقل کروں گا جس سے ہر ایک شخص یہ نتیجہ نکال