انوارالعلوم (جلد 6) — Page 142
انوار العلوم جلد 4 ۱۴۴ آئینہ صداقت انجمن تشید الاذہان اس لئے مصر تھی کہ اس سے لوگوں میں رسالہ کی طرف کشش رہے گی۔ کیونکہ اس کے اجراء کے وقت سے میں ہی اس کا ایڈیٹر رہا تھا یہیں اس وقت رسالہ میں کسی مضمون کا چھینا مجھ پر حجت نہیں ۔ کیونکہ میں اس وقت نہ رسالہ سے بہ حیثیت ایڈیٹر کوئی تعلق رکھتا تھا نہ اس کے مضامین یا اس کے پروف مجھے دکھائے جاتے تھے۔ اور اگر مولوی صاحب رسالہ پر صرف میرا نام ہونے پر مجھے اس کا ذمہ دار قرار دیں گے۔ تو ان کو بھی ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور پر جو ریویو رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوا ہے اس کا ذمہ دار ہونا پڑے گا ۔ مولوی سید محمد حسن صاحب کا نبوت مسیح موعود کو جزوی مولوی سید محمد احسن صاحب کے مضامین کے قرار دینا مولوی محمد علی صاحب کے مفید مطلب نہیں متعلق میں اس قدر اور بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو اگر دیکھا جاوے تو وہ بھی مولوی محمد علی صاحب کے مدعا کو پورا نہیں کرتے ۔ کیونکہ اگر لفظ جزوی نبوت کو جانے دیا جاوے۔ تو ان کے مضامین سے حضرت مسیح موعود کی وہی نبوت ثابت ہوتی ہے جو ہمارے عقیدہ میں حضرت مسیح موعود کو حاصل تھی ۔ اور اصل غرض نفس مطلب سے ہی ہوتی ہے ۔ الفاظ کچھ تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔ مولوی محمد احسن صاحب اپنے مضمون مندرجہ تشحید الاذہان میں بے شک تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت جزوی نبوت ہی تھی۔ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے بعد جس قدر انبیاء بنی اسرائیل میں آئے ہیں۔ ان کی نبوت بھی جزوی نبوت ہی تھی ۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں :- " پس مبشرات کی پیشگوئیاں واسطے تائید اسلام کے نبوت کے ہی ذریعہ سے دی جائیں گی اور یہی نبوت غیر تشریعی ہے یا نبوت جزدی - حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء گزرے ۔ وہ تمام اس نبوت مبشرات کے ساتھ ممتاز کئے گئے۔ کیونکہ نبوت احکام کی بنی اسرئیل میں تو رات پر ختم ہو گئی تھی ۔ وتشجيد الاذہان اکتوبرت له منه ) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ مولوی سید محمد حسن صاحب کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کہ لم يبقَ مِنَ النَّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ (صحیح بخاری کتاب التعبير باب المبشرات ) میں جن مبشرات کا وعدہ اس امت کے لئے دیا گیا ہے ۔ اسی کا نام نبوت غیر تشریعی یا جزوی نبوت ہے اور یہ کہ اسی قسم کی نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئی تھی ۔ اور یہی ہمارا عقیدہ ہے اس سے ایک شوشہ زیادہ کرنا ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ شرط بھی لگانا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت