انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 143

انوار العلوم جلد 4 الدلله آئیز صداقت موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جو نبی گزرے ہیں۔ ان کی نبوت کو غیر تشریعی ہی تھی ۔ مگر یہ نبوت کا انعام ان کو بغیر توسط حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ملا تھا لیکن ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت علاوہ اس کے کہ غیر تشریعی تھی اس کا فیضان بتوسط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوا تھا نہ کہ براہ راست پس مولوی محمد احسن صاحب کے مذہب سے جو حضرت مسیح موعود کی نبوت کے بارہ میں انہوں نے تشحید الاذہان میں شائع کیا تھا ہمیں ہرگز اختلاف نہیں ۔ ان کے اس مضمون سے اگر کوئی اختلاف ہمیں ہے ۔ تو صرف یہ کہ وہ اس کا نام نبوت جزویہ رکھتے ہیں ہم اس نبوت کو نبوت جزوی نہیں کہتے پس مولوی محمد علی صاحب کا سید صاحب کے اس مضمون کو اپنے لئے بطور دلیل گرداننا ان کی کمال سادگی پر دلالت کرتا ہے ۔ وہ شاید جزوی نبوت کے لفظ پر خوش ہو گئے ہیں۔ حالانکہ سید صاحب کے مضمون سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسی کے بعد تمام انبیاء بنی اسرائیل کو جزوی نبوت ملی تھی ۔ اور اگر حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت علی علیہم السلام کی نبوت نبوت جزویہ تھی۔ تو ان معنوں میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کو نبوت جزویہ قرار دینے میں ہمیں کچھ اعتراض نہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب کبھی اس امر کے قبول کرنے کے لئے تبہ ں ہوں ہے۔ وہ اسی وقت وقت تک دوسروں کے اقوال کو حجت ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔ جب تک وہ ان کے خیالات کے مطابق ہو جائیں۔ ہم اس جگہ مولوی محمد احسن صاحب کی دوسری تحریروں سے بھی بعض حوالے دے دیتے ہیں۔ تاکہ ہمارے دعوی کی مزید تصدیق ہو جاوے۔ مولوی محمد احسن صاحب خود مولوی محمد علی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے یوں تحریر کرتے ہیں کہ :- مولوی محمد علی نہ جزوی نبوت کے معنے سمجھتا ہے نہ مجازی کے نہ ظلی کے ۔ کیونکہ وہ تو یہ کہتا ہے کہ جیسے زید کو بوجہ بہادری کے شیر کہہ دیتے ہیں ۔ اسی طرح حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کونبی کیا گیا ہے ۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ وہ اتنا بھی نہ سمجھا کہ یہاں پر اسناد مجازی اگر کہیں حضرت جری اللہ کے کسی کلام میں وارد ہوئی تو مسند الیہ اس کا کون اور کس نہج سے ہے ۔ میرے پیارے دوست مجاز تو بالکل جھوٹ ہوا کرتا ہے۔ اگر نعوذ باللہ اس معنے (ہیں) حضرت نبی مجازی ہیں ۔ تو جھوٹے نبی ہیں۔ ثم نعوذ باللہ ۔ اصل یہ ہے کہ حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نبی مقدم ہیں اور دیکھو مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکیٹ بنام" نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق "