انوارالعلوم (جلد 6) — Page 141
انوار العلوم جلد 4 ۱۴۱ آئینہ صداقت فرماتے رہے ہیں " رالحق مؤرخہ ، سر مٹی و سه رجون ۹۱۳ نه جلد نمبر ۲۳۱۲۲ ۱۳۰ ) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ علاوہ ظہیر کے عقائد کو قابل نفرت اور کعبہ سے ترکستان کی طرف لے جانے والے سمجھنے کے جماعت نے اگر ان کے متعلق کوئی کارروائی کی تو سہی کہ ان کو حقیر خیال کر کے ان کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے۔ اور یہی طریق عمل اس وقت تک اختیار کیا جا رہا ہے۔ تاریخ اختلاف سلسلہ کا امر چهارم مولوی محمد احسن کے مضامین زمانہ قبل تاریخ اختلاف کے متعلق چوتھی قابل توجہ بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تحریر کرتے ہیں از اختلاف میں جزوی نبوت کا لفظ کوتوال کی اسیا که مولوی سید محمد حسن صاحب نے مباحثہ رام پور کی رپورٹ میں یہ ہیڈ نگ دے کر بحیث متعلق نبوت جزو یہ تابع نبوت کا ملہ یہ فقرہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کے لئے مل سکتی ہے۔ اسی طرح اس عالم بوڑھے نے تشمیذ الا ذبان میں جس کے ایڈیٹر ایم محمود تھے۔ ایک مضمون جس کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروان میں نبوت تھا ۔ لکھا۔ جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس امت میں صرف نبوت جزو یہ مل سکتی ہے ۔ مولوی صاحب کی اس تحریر سے یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بڑے بڑے اصحاب کا یہی مذہب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔ صرف جزوی نبوت کا دروازہ کھلا ہے ۔ دوسرے یہ کہ خود میری ایڈیٹری میں جو رسالہ نکلتا تھا۔ اس میں مولوی سید محمد احسن صاحب کا مضمون نبوت جزویہ کے متعلق شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یا تو میں بھی اس وقت یہی عقیدہ رکھتا تھا یا حضرت خلیفہ اول کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کر سکتا تھا مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب جو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ان امور سے ثابت نہیں ہوتا ۔ کیونکہ اول تو مولوی سید محمد احسن صاحب کا کوئی قول ہم پر حجت نہیں ۔ آپ کے قول کو وہی درجہ دیا جا سکتا ہے۔ جو علماء کے اقوال کو دیا جاتا ہے اور تشحید الاذہان میں آپ کے مضمون کا شائع ہونا بھی آپ کے مضمون کو کوئی خاص نوعیت نہیں دے دیتا ۔ کیونکہ بیضمون اکتوبر میں شائع ہوا ہے اور میں تشحید الاذہان کے کام سے دو سال قبل سے فارغ ہو چکا تھا۔ اس وقت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اصل میں رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔ اور میرا نام رسالہ پر لکھنے کے لئے