انوارالعلوم (جلد 6) — Page 135
انوار العلوم جلد 4 ۱۳۵ آئینہ صداقت خارج کیا ہے کہ اسے حضرت خلیفۃ المسیح سے اختلاف ہے۔ اور وہ اس اختلاف پر مضبوطی سے قائم ہے۔ بلکہ آپ نے اظہار افسوس بھی کیا ہے کہ جبکہ میں نے صاف طور پر لکھ دیا کہ تم میرے اعلان کے مخاطب نہیں ہو تو کیوں تم پھر بھی یہ کھے جاتے ہو کہ مجھے تمہارے عقائد سے اختلاف ہے۔ اور جبکہ ایک مرید خود اپنے منہ سے کہے کہ اسے خلیفہ وقت سے اُصولی اختلاف ہے اور سمجھانے پر بھی نہ سمجھے ۔ اور مقابلہ پر مصر رہے۔ تو اس کا علاج سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسے جماعت سے خارج کیا جاوے ۔ اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ظہیر نے کیوں حضرت خلیفہ اول سے اختلاف عقائد کا اظہار کیا ان کو جا ہے کہ جب عقائد کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ اور زمیندار کی غلط رپورٹ کی الحکم اصلاح کر چکا تھا اور اس اعلان کی تردید بھی حضرت خلیفہ المسیح اول نے کر دی تھی ۔ جسے بعض لوگوں نے جھوٹ بول کر ظہیر الدین کی کتاب کے متعلق مشہور کر رکھا تھا ۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ ظہیر الدین نے اس امر پر زور دیا کہ اسے حضرت خلیفہ ایسی کے عقائد سے اختلاف ہے۔ سو یاد رہے کہ گو ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور میں ایسی کوئی بات نہیں جو عقائد سلسلہ کے خلاف ہو مگر سالانہ میں جس وقت حضرت خلیفۃ المسیح سے اس کا اختلاف شروع ہوا ہے اس شخص کی حالت بگڑنی شروع ہوگئی تھی اور اسے یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا کہ یہ بھی مسیح موعود کی بعض پیشگوئیوں کا مصداق ہے یا کم سے کم اس نے دبی زبان سے لوگوں میں اس امر کا اظہار شروع کر دیا تھا اور یہ چاہتا تھا کہ جماعت میں کسی طرح فتنہ ڈالے اور اس نے تمام خط و کتابت میں یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ حضرت خلیفہ تاسیح پر جھوٹ کا الزام لگانے، چنانچہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے ۔ اس کے خط سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرت خلیفتہ المسیح کی اس تحریر کو کہ آپ کا اعلان اس کے متعلق نہیں شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا ۔ اور در حقیقت اس کا یہ خیال تھا کہ جو کچھ زمیندار میں شائع ہوا ہے ۔ وہی درست ہے ۔ الحکم کی رپورٹ محض احمدیوں کو خوش کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے اپنی تحریرات میں با وجود حضرت خلیفہ مسیح کے بار بار کے انکار کے لکھتا جاتا تھا کہ مجھے آپ کے عقائد سے اختلاف ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ مسیح نے اس کو جماعت سے خارج کر دیا ۔ اور جماعت میں سے کسی نے اسے منہ نہ لگایا تو پھر اس نے بظاہر رجوع کر لیا اور توبہ کر کے احمدی جماعت میں شامل ہوگیا۔ مگر دراصل کسی اچھے موقع کا منتظر رہا۔ پس اس کا اختلاف عقیدہ کا دعوی واقعات پر مبنی نہ تھا بلکہ اپنے اندر یہ مفہوم مخفی رکھتا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح